صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1780. (39) بَابُ صِفَةِ السَّيْرِ فِي الْخِصْبِ وَالْجَدْبِ
سرسبز و شاداب علاقے اور خشک و بنجر علاقے میں سفر کرنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 2550
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَقَّهَا، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَابْدُرُوا بِنِقْيِهَا، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ، فَإِنَّهَا طَرِيقُ الدَّوَابِّ، وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو تو اپنے اونٹوں کو بھی ان کا حق دے دو (انہیں چارہ کھانے کا موقع دو) اور جب تم خشک علاقے سے گزرو تو اونٹوں کی صحت وتازگی کی حالت میں جلدی وہاں سے نکل جاؤ۔ اور جب تم رات کو آرام کے لئے اُترو تو راستے پر آرام کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ وہ جانوروں کا راستہ اور زہریلے کیڑے مکوڑوں کی پناہ گاہ ہوتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2550]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1926، 1926، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2550، 2556، 2557، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2703، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2569، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2858، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10449، 10450، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8558»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2550 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2550
فوائد:
➊ اس حدیث میں چوپایوں پر نرمی کرنے اور ان کی طاقت کا لحاظ رکھنے کی ترغیب ہے۔ یعنی مسافر جب ہریالی کے موسم میں سفر کریں تو جانور پر تھوڑا سفر کر کے انہیں دورانِ سفر چرنے کے لیے چھوڑیں، تاکہ وہ چارہ وغیرہ کھا کر قوت و طاقت حاصل کر لیں۔
اور اگر وہ قحط سالی کے زمانے میں سفر کریں تو تیز چلیں، تاکہ وہ اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ پائیں اور جانوروں میں قوت و طاقت موجود رہے۔ اس عرصے میں آہستہ چل کر چوپایوں کو ضرر نہ پہنچائیں۔
➋ اس حدیث میں دورانِ سفر چلنے اور رات کو پڑاؤ ڈالنے کا ادب سکھایا گیا ہے۔ نزول کے وقت راستے سے ایک طرف ہو کر آرام کیا جائے۔
کیونکہ زہریلے حشرات، جانور اور درندے رات کے وقت راستوں پر چلتے ہیں اور کھانے کی گری پڑی چیزیں لیتے ہیں۔ چنانچہ جب رات کو انسان راستے پر پڑاؤ ڈالے گا تو موذی جانور اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لہٰذا اس ضرورت کے لیے راستے سے دور آرام کیا جائے۔ [شرح النووي: 13/ 69]
➊ اس حدیث میں چوپایوں پر نرمی کرنے اور ان کی طاقت کا لحاظ رکھنے کی ترغیب ہے۔ یعنی مسافر جب ہریالی کے موسم میں سفر کریں تو جانور پر تھوڑا سفر کر کے انہیں دورانِ سفر چرنے کے لیے چھوڑیں، تاکہ وہ چارہ وغیرہ کھا کر قوت و طاقت حاصل کر لیں۔
اور اگر وہ قحط سالی کے زمانے میں سفر کریں تو تیز چلیں، تاکہ وہ اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ پائیں اور جانوروں میں قوت و طاقت موجود رہے۔ اس عرصے میں آہستہ چل کر چوپایوں کو ضرر نہ پہنچائیں۔
➋ اس حدیث میں دورانِ سفر چلنے اور رات کو پڑاؤ ڈالنے کا ادب سکھایا گیا ہے۔ نزول کے وقت راستے سے ایک طرف ہو کر آرام کیا جائے۔
کیونکہ زہریلے حشرات، جانور اور درندے رات کے وقت راستوں پر چلتے ہیں اور کھانے کی گری پڑی چیزیں لیتے ہیں۔ چنانچہ جب رات کو انسان راستے پر پڑاؤ ڈالے گا تو موذی جانور اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لہٰذا اس ضرورت کے لیے راستے سے دور آرام کیا جائے۔ [شرح النووي: 13/ 69]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2550]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2550 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي