علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1781. (40) باب الزجر عن ضرب الدواب على الوجه، وفيه ما دل على أن الضرب على غير الوجه مباح
جانوروں کے چہروں پر مارنا منع ہے اور اس میں یہ دلیل ہے کہ دیگر حصّوں پر مارنا جائز ہے
حدیث نمبر: 2551
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمِرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ، وَعَنِ الضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي أَخْبَارِ جَابِرٍ فِي قِصَّةِ الْبَعِيرِ الَّذِي ابْتَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَعْيَا جَمَلِي، فَنَخَسَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَضِيبٍ أَوْ ضَرَبَهُ"، دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ ضَرْبَ الدَّوَابِّ عَلَى غَيْرِ الْوَجْهِ مُبَاحٌ، خَرَّجْتُ تِلْكَ الأَخْبَارَ فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جانور کے) چہرے پر داغ لگانے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے اونٹ کے قصّے میں ہے، وہ اونٹ جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خرید لیا تھا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا اونٹ تھک ہار گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکے پہلو میں چھڑی چبوئی یا اسے مارا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جانوروں کے چہروں کے علاوہ دوسرے حصّوں پر (بوقت ضرورت) مارنا جائز ہے۔ میں نے یہ روایات کتاب البیوع میں بیان کر دی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2551]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2551 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري