صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1781. (40) باب الزجر عن ضرب الدواب على الوجه، وفيه ما دل على أن الضرب على غير الوجه مباح
جانوروں کے چہروں پر مارنا منع ہے اور اس میں یہ دلیل ہے کہ دیگر حصّوں پر مارنا جائز ہے
حدیث نمبر: 2551
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمِرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ، وَعَنِ الضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي أَخْبَارِ جَابِرٍ فِي قِصَّةِ الْبَعِيرِ الَّذِي ابْتَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَعْيَا جَمَلِي، فَنَخَسَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَضِيبٍ أَوْ ضَرَبَهُ"، دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ ضَرْبَ الدَّوَابِّ عَلَى غَيْرِ الْوَجْهِ مُبَاحٌ، خَرَّجْتُ تِلْكَ الأَخْبَارَ فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جانور کے) چہرے پر داغ لگانے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے اونٹ کے قصّے میں ہے، وہ اونٹ جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خرید لیا تھا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا اونٹ تھک ہار گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکے پہلو میں چھڑی چبوئی یا اسے مارا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جانوروں کے چہروں کے علاوہ دوسرے حصّوں پر (بوقت ضرورت) مارنا جائز ہے۔ میں نے یہ روایات کتاب البیوع میں بیان کر دی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2551]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2116، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2551، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5620، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2564، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1710، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10443، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14381»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2551 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2551
فوائد:
➊ اس حدیث کی رو سے چہرے پر داغنا بالاجماع حرام ہے۔
➋ انسان کے چہرے کو تو اس کی تکریم کی وجہ سے داغنا حرام ہے اور اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں اور انسان کو عذاب دینا بھی ناجائز ہے۔
➌ غیر انسان کے چہرے پر نشان ڈالنا بھی حرام ہے، یہی موقف راجح ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے والے پر لعنت کی ہے اور لعنت تحریم کی متقاضی ہے۔
➍ البتہ چوپایوں کے چہرے کے سوا جسم کے دوسرے حصوں پر نشان لگانا جائز ہے۔
➎ اور زکوٰۃ اور جزیہ کے جانوروں کے چہروں کے سوا اعضاء پر داغنا مستحب فعل ہے۔
➊ اس حدیث کی رو سے چہرے پر داغنا بالاجماع حرام ہے۔
➋ انسان کے چہرے کو تو اس کی تکریم کی وجہ سے داغنا حرام ہے اور اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں اور انسان کو عذاب دینا بھی ناجائز ہے۔
➌ غیر انسان کے چہرے پر نشان ڈالنا بھی حرام ہے، یہی موقف راجح ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے والے پر لعنت کی ہے اور لعنت تحریم کی متقاضی ہے۔
➍ البتہ چوپایوں کے چہرے کے سوا جسم کے دوسرے حصوں پر نشان لگانا جائز ہے۔
➎ اور زکوٰۃ اور جزیہ کے جانوروں کے چہروں کے سوا اعضاء پر داغنا مستحب فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2551]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2551 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري