صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1793. (52) باب الدعاء عند رؤية القرى اللواتي يريد المرء دخولها
آدمی جن بستیوں میں داخل ہونا چاہتا ہو انہیں دیکھنے پر دعا پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2565
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ كَعْبًا ، حَدَّثَهُ أَنَّ صُهَيْبًا صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرَ قَرْيَةً يُرِيدُ دُخُولَهَا إِلا قَالَ حِينَ يَرَاهَا: " اللَّهُمَّ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبِّ الأَرَضِينَ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبِّ الشَّيَاطِينَ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبِّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ، وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس بستی میں داخل ہونا چاہتے تو اس بستی کو دیکھ کر یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الأَرَضِينِ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْت، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا» ”اے اللہ، ساتوں آسمانوں کے اور ان تمام چیزوں کے پروردگار جن پر یہ آسمان سایہ کیے ہوئے ہیں، تمام زمینوں اور ان تمام چیزوں کے پروردگار جنہیں ان زمینوں نے اُٹھا رکھا ہے۔ ان شیطانوں اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہوا ہے، سب کے رب، ہواوں اور جن چیزوں کو وہ اڑاتی ہیں، ان سب کے پروردگار، بیشک ہم تجھ سے اس بستی اور اس کے رہنے والوں کی خیر و بھلائ مانگتے ہیں۔ ہم تجھ سے اس بستی کے شر، اس کے باشندوں کے شر اور اس بستی میں جو کچھ ہے سب کی برائی اور شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2565]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن لغيره، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2565، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2709، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1640، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10429، والبزار فى (مسنده) برقم: 2093، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1778، 2528، 2529، والطبراني فى(الكبير) برقم: 7299»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2565 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2565
فوائد:
➊ کسی بھی بستی میں قبل از دخول یہ کلمات کہنا مستحب فعل ہے اور اس دعا کے اہتمام سے انسان اس بستی کے شر سے محفوظ رہے گا اور اس کی خیر و برکت سے مستفید ہوگا۔
➊ کسی بھی بستی میں قبل از دخول یہ کلمات کہنا مستحب فعل ہے اور اس دعا کے اہتمام سے انسان اس بستی کے شر سے محفوظ رہے گا اور اس کی خیر و برکت سے مستفید ہوگا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2565]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2565 in Urdu
كعب الأحبار ← صهيب الرومي