🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
203. ‏(‏202‏)‏ باب ذكر دليل أن النبى صلى الله عليه وسلم قد كان يأمر بالوضوء قبل نزول سورة المائدة‏.‏
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورہ مائدہ کے نزول سے پہلے وضو کرنے کا حکم دیا کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 260
نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِي سَلامٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَنْبَسَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ مَا بُعِثَ وَهُوَ بِمَكَّةَ، وَهُوَ حِينَئِذٍ مُسْتَخْفٍ، فَقُلْتُ مَا أَنْتَ؟ قَالَ:" أَنَا نَبِيٌّ"، قُلْتُ: وَمَا النَّبِيُّ؟ قَالَ:" رَسُولُ اللَّهِ"، قَالَ: آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: بِمَ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ:" بِأَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ، وَنُكَسِّرَ الأَوْثَانَ، وَدَارَ الأَوْثَانِ، وَتُوصَلَ الأَرْحَامُ" ، قُلْتُ: نِعْمَ مَا أَرْسَلَكَ بِهِ، قُلْتُ: فَمَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ:" عَبْدٌ وَحُرٌّ"، يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ، وَبِلالا، فَكَانَ عَمْرٌو يَقُولُ: رَأَيْتُنِي وَأَنَا رُبْعُ الإِسْلامِ أَوْ رَابِعُ الإِسْلامِ، قَالَ: فَأَسْلَمْتُ، قَالَ: أَتَّبِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لا، وَلَكِنِ الْحَقْ بِقَوْمِكَ، فَإِذَا أُخْبِرْتَ أَنِّي قَدْ خَرَجْتُ فَاتَّبِعْنِي"، قَالَ: فَلَحِقْتُ بِقَوْمِي , وَجَعَلْتُ أَتَوَقَّعُ خَبَرَهُ وَخُرُوجَهُ، حَتَّى أَقْبَلَتْ رُفْقَةٌ مِنْ يَثْرِبَ، فَلَقِيتُهُمْ فَسَأَلْتُهُمْ عَنِ الْخَبَرِ، فَقَالُوا: قَدْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقُلْتُ: وَقَدْ أَتَاهَا؟ قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَارْتَحَلَتْ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَتَعْرِفُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، أَنْتَ الرَّجُلُ الَّذِي أَتَانِي بِمَكَّةَ"، فَجَعَلْتُ أَتَحَيَّنُ خَلْوَتَهُ، فَلَمَّا خَلا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ وَأَجْهَلُ، قَالَ:" سَلْ عَمَّا شِئْتَ"، قُلْتُ: أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ:" جَوْفُ اللَّيْلِ الآخِرِ، فَصَلِّ مَا شِئْتَ، فَإِنَّ الصَّلاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَتَرْتَفِعُ قَدْرَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، وَتُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّ الصَّلاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ حَتَّى يَعْدِلَ الرُّمْحَ ظِلُّهُ، ثُمَّ أَقْصِرْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ وَتُفْتَحُ أَبْوَابُهَا، فَإِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى مَا شِئْتَ، فَإِنَّ الصَّلاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ وَتُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ، وَإِذَا تَوَضَّأْتَ فَاغْسِلْ يَدَيْكَ، فَإِنَّكَ إِذَا غَسَلْتَ يَدَيْكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ أَطْرَافِ أَنَامِلِكَ، ثُمَّ إِذَا غَسَلْتَ وَجْهَكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ وَجْهِكَ، ثُمَّ إِذَا مَضْمَضْتَ وَاسْتَنْثَرَتْ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ مَنَاخِرِكَ، ثُمَّ إِذَا غَسَلْتَ يَدَيْكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ ذِرَاعَيْكَ، ثُمَّ إِذَا مَسَحْتَ بِرَأْسِكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِكَ، ثُمَّ إِذَا غَسَلْتَ رِجْلَيْكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ رِجْلَيْكَ، فَإِنْ ثَبَتَّ فِي مَجْلِسِكَ كَانَ ذَلِكَ حَظَّكَ مِنْ وُضُوئِكَ، وَإِنْ قُمْتَ فَذَكَرْتَ رَبَّكَ، وَحَمِدْتَ وَرَكَعَتْ رَكْعَتَيْنِ مُقْبِلا عَلَيْهِمَا بِقَلْبِكَ، كُنْتَ مِنْ خَطَايَاكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ" ، قَالَ: قُلْتُ: يَا عَمْرُو: اعْلَمْ مَا تَقُولُ، فَإِنَّكَ تَقُولُ أَمْرًا عَظِيمًا، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِيَّ، وَدَنَا أَجَلِي، وَإِنِّي لَغَنِيٌّ عَنِ الْكَذِبِ، وَلَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ مَا حَدَّثْتُهُ، وَلَكِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، إِلا أَنْ أُخْطِئَ شَيْئًا لا أُرِيدُهُ فَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
سیدنا عمروہ بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ابتدائی ایّام میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ میں تشریف فرما تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ دعوت دینے میں مصروف تھے۔ تو میں نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا کہ نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نبی) اللہ کا رسول ہوتا ہے۔ میں نے عرض کی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے پوچھا کہ (اللہ تعالیٰ نے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مُجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حُکم دیکر بھیجا ہے کہ) ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، بُتوں کو توڑدیں اور بُت خانے برباد کردیں اور صلہ رحمی کریں۔ میں نے کہا کہ (اللہ تعالیٰ نے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شاندار دعوت دے کر بھیجا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعوت کوکس نےقبول کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آزاد مرد اور ایک غلام نے قبول کی ہے۔ یعنی سیدنا ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما نے۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میں اپنے آپ کو چوتھا مسلمان سمجھتا ہوں۔ کہتے میں کہ میں مسلمان ہوگیا۔ کہتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول میں (مکّہ مکرّمہ میں رہ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، (ابھی) اپنی قوم میں چلے جاؤ، پھر جب تمہیں خبر ملے کہ میں (غالب آ گیا ہوں اور) منظر عام پر آ گیا ہوں تو میری پیروی کرنا۔ کہتے ہیں: میں اپنی قوم میں چلا گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبے اور منظر عام پر آنے کا انتظار کرنے لگا۔ حتیٰ کہ یثرب سے ایک قافلہ آیا تو میں اُنہیں ملا اور اُن سے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی) خبر کے متعلق پوچھا۔ تو اُنہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرمہ سے مدینہ منوّرہ چلے گئے ہیں۔ تو میں نے کہا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچ گئے ہیں؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ ہاں، کہتے ہیں کہ میں (مدینہ منوّرہ کی طرف) روانہ ہوا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا- میں نے عرض کی کہ یا رسول الله، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پہچانتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تُو وہی شخص ہے جومکّہ مکرّمہ میں میرے پاس آیا تھا۔ تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سےتنہائی میں ملنے کا موقع تلاش کرنے لگا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا ہوئے تو میں نے عرض کی کہ اللہ کے رسول، مجھےوہ علم سکھا دیجیے جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالی نے سکھایا ہے، اور میں تو جاہل شخص ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہو پوچھو میں نے پوچھا کہ رات کا کون سا حصّہ زیادہ قبولیت والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کا آخری پہر (‏‏‏‏زیادہ قبولیت والا ہے) تم جتنی چاہو نماز پڑھو۔ کیونکہ (‏‏‏‏اُس وقت) نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ لکھی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ تم صبح کی نماز ادا کرلو، پھر سورج طلوع ہونے تک رُکے رہو، حتیٰ کہ وہ ایک یا دو نیزوں کے برابر بلند ہو جائے، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور کافر اُس کی پُوجا کرتے ہیں۔ پھر جتنی چاہو نماز پڑھو کیونکہ (اُس وقت) نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ لکھی جاتی ہے یعنی اُس کا ثواب نمازی کے لئے لکھا جاتا ہے) حتیٰ کہ نیزہ اپنے سائے کے برابر ہو جائے پھر (نماز پڑھنے سے) رُک جاؤ کیونکہ (اُس وقت) جہنم بھڑکائی جاتی ہے اور اُس کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ پھر جب سورج ڈھل جائے تو جتنی چاہو نماز پڑھ لو کیونکہ نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ لکھی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو۔ پھر سورج غروب ہونے لگے تو (نماز پڑھنا) چھوڑ دو کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور (اُس وقت) کافر اُس کی پوجا کرتے ہیں۔ اور جب تم وضو کرو تو اپنے ہاتھوں کو دھولو کیونکہ جب تم اپنے ہاتھ دھوؤ گے تو تمہارے گناہ اُنگلیوں کے کنارروں سے نکل جائیں گے پھر جب تم اپنا چہرہ دھوؤ گے تو تمہارے گناہ تمہارے چہرے سے نکل جائیں گے۔ پھر جب تم کُلّی کرو گے اور ناک جھاڑو گے تو تمہارے گناہ تمہارے نتھنوں سے نکل جائیں گے۔ پھر جب تم اپنی کہنیاں دھوؤ گے تو تمہارے گناہ تمہاری کلائیوں سے نکل جائیں گے پھر جب تم اپنے سر کا مسح کرو گے تو تمہارے گناہ تمہارے بالوں کے کناروں سے نکل جائیں گے۔ پھر جب تم اپنے پاؤں دھوؤ گے تو تمہارے گناہ تمہارے قدموں سے نکل جائیں گے۔ پھر اگر تم اپنی مجلس میں بیٹھے رہے تو یہ تمہارا وضو سے نصیب ہے (یعنی وضو کا ثواب ملے گا) اور اگر تم نے کھڑے ہو کر اپنے رب کو یاد کیا اور اُس کی حمد ثنا بیان کی، اور دو رکعت نماز اپنے دل کی توجہ سے ادا کی تو تم اپنی خطاؤں سے اسی طرح (پاک صاف) ہو جاؤ گے جس طرح تم اپنی پیدائش کے دن (گناہوں سے پاک صاف) تھے۔ کہتے ہیں، میں نے کہا کہ اے عمرو، خوب سوچ سمجھ کر بات کرو کیونکہ تم بہت بڑی بات بیان کر رہے ہو۔ اُنہوں نے فرمایا کہ اللہ کی قسم، میں عُمر رسیدہ ہو چُکا ہوں، میری موت کا وقت قریب ہے اور بیشک میں جُھوٹ بولنے سے بے پرواہ ہوں (یعنی مُجھے اس کی ضرورت نہیں) اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان ایک دو بار سُنا ہوتا تو میں اسے بیان نہ کرتا لیکن میں نے اسے کئی بار سنا ہے۔ مجھے ابو سلام نے اسی طرح ابوامامہ سے بیان کیا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں کسی چیز میں بلا ارادہ غلطی کر جاؤں تو میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اُس سے توبہ کرتا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب غسل التطهير والاستحباب من غير فرض ولا إيجاب/حدیث: 260]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 832، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 165، 260، 1147، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 453، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 147، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1277، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3579، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 283، 1251، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 382، والدارقطني فى (سننه) برقم: 378، 379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17288»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن عبسة السلمي، أبو نجيحصحابي
👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامة
Newصدي بن عجلان الباهلي ← عمرو بن عبسة السلمي
صحابي
👤←👥ممطور الأسود الحبشي، أبو سلام
Newممطور الأسود الحبشي ← صدي بن عجلان الباهلي
ثقة يرسل
👤←👥العباس بن سالم اللخمي
Newالعباس بن سالم اللخمي ← ممطور الأسود الحبشي
ثقة
👤←👥محمد بن المهاجر الأشهلي
Newمحمد بن المهاجر الأشهلي ← العباس بن سالم اللخمي
ثقة
👤←👥الربيع بن نافع الحلبي، أبو توبة
Newالربيع بن نافع الحلبي ← محمد بن المهاجر الأشهلي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن سفيان الفسوي، أبو يوسف
Newيعقوب بن سفيان الفسوي ← الربيع بن نافع الحلبي
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 260 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 260
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ سورہ المائدہ کے نزول سے قبل بھی نماز کے لیے وضو کی فرضیت ثابت تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو وضو کی تعلیم اور حکم دیتے تھے۔
➋ یہ حقیقت ہے کہ نماز پنجگانہ کی فرضیت شب معراج کو ہوئی تھی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز بلا وضو ادا نہیں کی، لہٰذا راجح موقف یہ ہے کہ نماز کی فرضیت کے ساتھ وضو کی فرضیت ثابت تھی۔
➌ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حدیثِ نبوی بیان کرتے وقت انتہائی احتیاط برتتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنے سے ڈرتے تھے۔
سو حدیثِ نبوی بیان کرتے وقت ان چیزوں کا ملحوظ رکھنا از بس ضروری ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 260]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q260
وَعِنْدَ الْمَرَضِ الَّذِي يُخَافُ فِي إِمْسَاسِ الْمَاءِ مَوَاضِعَ الْوُضُوءِ وَالْبَدَنِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ لِلْمَرِيضِ الْمُخَوَّفِ أَوِ الْأَلَمِ الْمُوجِعِ أَوِ التَّلَفِ
جس میں مریض اعضائے وضو پر پانی لگانے اورغسل جنابت میں جسم دھونے سے ہلاک ہونے یا شدید درد میں مُبتلا ہونے سے ڈرتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب غسل التطهير والاستحباب من غير فرض ولا إيجاب/حدیث: Q260]


Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 260 in Urdu