صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1820. (79) باب الإحرام فى الأزر والأردية والنعال
احرام باندھنے میں تہبند، چادریں اور چوتے استعمال کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2601
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازِقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا نَادَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ، فَقَالَ:" لا تَلْبَسُوا السَّرَاوِيلَ، وَلا الْقُمُصَ، وَلا الْبُرْنُسَ، وَلا الْعِمَامَةَ، وَلا ثَوْبَ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلا وَرْسٌ، وَلْيُحْرِمَ أَحَدُكُمْ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ وَنَعْلَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا إِلَى الْكَعْبَيْنِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بلند آواز سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، محرم کون کون سے کپڑے نہ پہنے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم شلواریں، قمیص، ٹوپی والے کوٹ، پگڑیاں اور زعفران اور ورس بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے مت پہنو۔ بلکہ تم میں سے کوئی شخص احرام باندھے تو تہہ بند، چادر اور جوتے پہن لے۔ اور اگر اسے جوتے نہ ملیں تو موزے پہن لے اور ان کو (اوپر سے کاٹ لے) حتّیٰ کہ وہ ٹخنوں سے نیچے آجائیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2601]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 134، 366، 1542، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1177، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1160، وابن الجارود فى "المنتقى"، 457، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2597، 2598، 2599، 2600، 2601، 2682، 2683، 2684، 2685، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3761، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1794، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2665، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1823، والترمذي فى (جامعه) برقم: 833، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2929، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1369، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2469، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4540»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2601 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2601
فوائد:
➊ علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ محرم کے لیے احادیث الباب میں مذکور لباس اور چیزیں پہننا حرام ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت کی ہے کہ قمیص اور شلوار اور اس معنی کے تمام لباس ممنوع ہیں، اسی طرح سر کو ڈھانپنے والی چیز، عمامے اور ٹوپیاں وغیرہ پہننا بھی حرام ہیں۔ پھر اگر زخم یا سر درد کی وجہ سے وہ سر پر کپڑا یا پگڑی باندھے تو اس پر فدیہ لازم آئے گا۔ اور موزے، جرابیں اور بند جوتے پہننا بھی حرام ہیں، یہ تمام احکام مردوں کے لیے ہیں۔
➋ بہرحال عورت کے لیے تمام بدن کو ہر لباس سے چھپانا مباح ہے، وہ سلا ہوا ہو یا ان سلا، سوائے عورت کے چہرے کے۔ اسے اپنے چہرے کو ہر پردے (نقاب، وغیرہ) سے ڈھانپنا حرام ہے، البتہ ہاتھوں پر دستانے پہننے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے اور راجح بات یہی ہے کہ دستانے پہننا بھی حرام ہیں۔ نیز مرد و عورت پر ہر قسم کی خوشبو کا استعمال حرام ہے۔ ** [شرح النووي: 74/8] **
➊ علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ محرم کے لیے احادیث الباب میں مذکور لباس اور چیزیں پہننا حرام ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت کی ہے کہ قمیص اور شلوار اور اس معنی کے تمام لباس ممنوع ہیں، اسی طرح سر کو ڈھانپنے والی چیز، عمامے اور ٹوپیاں وغیرہ پہننا بھی حرام ہیں۔ پھر اگر زخم یا سر درد کی وجہ سے وہ سر پر کپڑا یا پگڑی باندھے تو اس پر فدیہ لازم آئے گا۔ اور موزے، جرابیں اور بند جوتے پہننا بھی حرام ہیں، یہ تمام احکام مردوں کے لیے ہیں۔
➋ بہرحال عورت کے لیے تمام بدن کو ہر لباس سے چھپانا مباح ہے، وہ سلا ہوا ہو یا ان سلا، سوائے عورت کے چہرے کے۔ اسے اپنے چہرے کو ہر پردے (نقاب، وغیرہ) سے ڈھانپنا حرام ہے، البتہ ہاتھوں پر دستانے پہننے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے اور راجح بات یہی ہے کہ دستانے پہننا بھی حرام ہیں۔ نیز مرد و عورت پر ہر قسم کی خوشبو کا استعمال حرام ہے۔ ** [شرح النووي: 74/8] **
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2601]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2601 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي