صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1826. (85) باب تقليد الغنم عند الإحرام إذا سيق الهدي، ضد قول من زعم أن الغنم لا تقلد
جب بکرا قربانی کے لئے لے جایا جائے تو اس کے گلے میں ہار ڈالنا چاہیے
حدیث نمبر: 2608
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ قَلائِدَ الْغَنَمِ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَمْكُثُ حَلالا" ، هَذَا حَدِيثُ الزَّعْفَرَانِيِّ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی بکریوں کے لئے ہار بٹتی تھی۔ جہنیں آپ مکّہ مکرّمہ بھیجتے تھے پھر آپ خود مدینہ منوّرہ ہی میں حلال رہتے تھے (یعنی حج وعمرے کے لئے تشریف نہیں لے جاتے تھے) یہ جناب زعفرانی کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2608]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1696، 1698، 1699، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1321، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1229، وابن الجارود فى "المنتقى"، 465، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2573، 2574، 2608، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4003، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2771، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1755، والترمذي فى (جامعه) برقم: 908، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3094، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10209، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3038»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2608 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2608
فوائد:
➊ ہدی کے جانور اونٹ اور گائے کو قلادہ پہنانے کے جواز کے قائل ہیں اور بکری کو قلادہ پہنانے میں علماء کا اختلاف ہے، اور یہ حدیث دلیل ہے کہ بکری کو بھی قلادہ پہنانا جائز و مباح ہے۔
➊ ہدی کے جانور اونٹ اور گائے کو قلادہ پہنانے کے جواز کے قائل ہیں اور بکری کو قلادہ پہنانے میں علماء کا اختلاف ہے، اور یہ حدیث دلیل ہے کہ بکری کو بھی قلادہ پہنانا جائز و مباح ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2608]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2608 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق