صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1835. (94) باب استحباب الإهلال بما يحرم به المهل من حج أو عمرة أو هما
محرم حج، عمرہ یا حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھ سکتا ہے۔ ان میں سے جس کا احرام باندھے گا اسی کے ساتھ تلبیہ پکارنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2619
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، كُلُّهُمْ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا"، مِرَارًا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَ حَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَ حَجًّا» اے اللہ میں عمرہ اور حج دونوں کی ادائیگی کے لئے حاضر ہوں۔ اے اللہ میں عمرہ اور حج دونوں کی ادائیگی کے لئے حاضر ہوں۔“ آپ یہ کلمات بار بار پڑھ رہے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2619]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1089، 1546، 1547، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 690، وابن الجارود فى "المنتقى"، 162، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2618، 2619، 2894، 2895، 2896، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2743، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1742، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 468، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1202، والترمذي فى (جامعه) برقم: 546، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2917، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2734، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5091»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2619 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2619
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ حج اور عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھنے والا مذکور کلمات کے ساتھ با آواز بلند تلبیہ کہہ سکتا ہے اور یہ عمل مستحب ہے۔
➋ احرام کی با آواز بلند نیت کرنا اور نیت کے کلمات کو اونچی آواز سے کہنا مشروع فعل ہے، اور حج قران، افراد اور تمتع کا ارادہ کرنے والا کسی ایک قسم کے انتخاب کی صورت میں حج کی اسی قسم کی نیت کا احرام باندھے گا۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ حج اور عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھنے والا مذکور کلمات کے ساتھ با آواز بلند تلبیہ کہہ سکتا ہے اور یہ عمل مستحب ہے۔
➋ احرام کی با آواز بلند نیت کرنا اور نیت کے کلمات کو اونچی آواز سے کہنا مشروع فعل ہے، اور حج قران، افراد اور تمتع کا ارادہ کرنے والا کسی ایک قسم کے انتخاب کی صورت میں حج کی اسی قسم کی نیت کا احرام باندھے گا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2619]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2619 in Urdu
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري