🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1837. (96) باب صفة تلبية النبى صلى الله عليه وسلم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2622
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ مُؤَمَّلٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے تلبیہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا ہے۔ پھر جناب مؤمل کی حدیث کی طرح بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2622]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1540، 1549، 1554، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1184، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1192، وابن الجارود فى "المنتقى"، 476، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2621، 2622، 2656، 2716، 2888، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3799، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1657، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1747، والترمذي فى (جامعه) برقم: 825، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2918، 3047، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9067، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2449، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4543»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2622 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2622
فوائد:
➊ تمام اہل اسلام کا اجماع ہے کہ تلبیہ کہنا مشروع ہے۔ پھر علماء کا اس کے وجوب میں اختلاف ہے۔ شافعی اور دیگر علماء کا موقف ہے کہ تلبیہ کہنا سنت ہے۔ صحتِ حج کے لیے یہ شرط اور واجب نہیں، اور اگر حاجی و معتمر تلبیہ چھوڑ بھی دے تو اس کا حج درست ہے اور اس پر کوئی فدیہ نہیں، لیکن وہ اس کی فضیلت سے محروم رہے گا۔
➋ تلبیہ کہتے وقت آواز بلند کرنا مستحب فعل ہے، اور عورت کے لیے آواز بلند کرنا مشروع نہیں، کیونکہ اس کی بلند آواز فتنہ کا باعث ہے۔ اور حج وعمرہ میں بکثرت تلبیہ کہنا مستحب ہے، خصوصاً دن رات کی آمد، بلندی پر چڑھتے اترتے، اجتماع، قیام و قعود، سوار ہوتے، سواری سے اترتے، نمازوں کے بعد اور تمام مساجد میں تلبیہ کا اہتمام افضل ہے۔ اور راجح یہ ہے کہ طواف اور سعی کے وقت تلبیہ نہ کہا جائے، کیونکہ ان اوقات کے مخصوص اذکار ہیں۔ [شرح النووي: 8/91]
➌ تلبیہ میں احادیثِ الباب میں مذکور الفاظ کا ورد مشروع و مسنون ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2622]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2622 in Urdu