صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1851. (110) باب الزجر عن أكل المحرم بيض الصيد، إذا أخذ البيضة من أجل المحرم
جب محرم کے لئے شکاری جانور کے انڈے حاصل کیے گئے ہوں تو محرم کے لئے وہ انڈہ کھانا منع ہے
حدیث نمبر: 2644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، " هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ بَيْضَاتُ نَعَامٍ وَهُوَ حَرَامٌ فَرَدَّهُنَّ؟ قَالَ: نَعَمْ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ جَابِرٍ:" لَحْمُ الصَّيْدِ حَلالٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ"، دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ بَيْضَ الصَّيْدِ مُبَاحٌ لِلْمُحْرِمِ إِذَا لَمْ يُؤْخَذْ مِنْ أَجْلِ الْمُحْرِمِ، لأَنَّ حُكْمَ بَيْضِ الصَّيْدِ لا يَكُونُ أَكْثَرَ مِنْ حُكْمِ لَحْمِهِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا، اے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شتر مرغ کے انڈے ہدیہ کیے گئے تھے جب کہ آپ حالت احرام میں تھے تو آپ نے وہ انڈے واپس کر دیے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، مجھے یہ بات معلوم ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ جب تم حالت احرام میں ہو تو تمہارے لئے شکار کا گوشت کھانا حلال ہے جبکہ تم نے اسے خود شکار نہ کیا ہو یا وہ تمہارے لئے ہی شکار نہ کیا گیا ہو۔ اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ شکاری جانور کا انڈہ کھانا محرم کے لئے جائز ہے جب کہ وہ محرم کے لئے ہی حاصل نہ کیے گئے ہوں۔ کیونکہ شکاری جانور کے انڈے کا حُکم اس کے گوشت سے زیادہ سخت نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2644]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1195، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2639، 2640، 2644، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3968، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1666، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2820، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1850، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10049، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19579»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2644 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2644
فوائد:
➊ علماء کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ محرم کے لیے خشکی کا شکار حرام ہے اور ◈ شافعی اور دیگر علماء کہتے ہیں کہ محرم کے لیے بیع اور ہبہ کے ذریعہ شکار کا مالک بننا بھی حرام ہے۔
➋ محرم کے لیے شکار کا گوشت، خواہ محرم خود شکار کرے یا اس کی خاطر شکار کیا جائے، محرم کے لیے حرام ہے، خواہ شکار اس کی اجازت سے ہو یا بلا اجازت کیا گیا ہو۔
➌ اگر غیر محرم اپنے لیے شکار کرے اور محرم کو کھلانا مقصود نہ ہو، پھر وہ گوشت محرم کو ہدیہ کر دے یا شکار کا گوشت خرید کر محرم کو دے دے، تو ایسا گوشت محرم کے لیے حلال ہے۔ ◈ شافعیہ، مالک، احمد اور داؤد ظاہری اسی موقف کے قائل ہیں۔ [شرح النووي: 8/105]
➍ محرم کے لیے شکار کرنا، شکار کی طرف اشارہ کرنا یا شکار کی اطلاع دینا حرام ہے، نیز شکار کو بھڑکانا بھی ناجائز ہے۔
➎ محرم کے لیے ایسا شکار ممنوع ہے جو اس کی خاطر، اس کی اطلاع پر یا اس کی اعانت سے شکار کیا گیا ہو۔
➏ محرم کے لیے خشکی کے جانور کے انڈے ضائع کرنا، انہیں خریدنا اور بیچنا حرام ہے، اسی طرح کسی شکاری جانور کا دودھ دوہنا بھی ناجائز ہے۔ [فقه السنة: 1/599]
➐ محرم کے لیے سمندر کا ہر قسم کا شکار حلال ہے، خواہ وہ شکار اس نے خود کیا ہو، اس کی خاطر کیا ہو، اسے ہدیہ ملا ہو یا اس نے خریدا ہو۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿أُحِلَّ لَكُمۡ صَيۡدُ ٱلۡبَحۡرِ وَطَعَامُهُۥ مَتَٰعٗا لَّكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِ﴾ ”تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے کہ تمہارے لیے اور قافلے کے لیے سامانِ زندگی ہے۔“ [سورة المائدة: 96]
➊ علماء کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ محرم کے لیے خشکی کا شکار حرام ہے اور ◈ شافعی اور دیگر علماء کہتے ہیں کہ محرم کے لیے بیع اور ہبہ کے ذریعہ شکار کا مالک بننا بھی حرام ہے۔
➋ محرم کے لیے شکار کا گوشت، خواہ محرم خود شکار کرے یا اس کی خاطر شکار کیا جائے، محرم کے لیے حرام ہے، خواہ شکار اس کی اجازت سے ہو یا بلا اجازت کیا گیا ہو۔
➌ اگر غیر محرم اپنے لیے شکار کرے اور محرم کو کھلانا مقصود نہ ہو، پھر وہ گوشت محرم کو ہدیہ کر دے یا شکار کا گوشت خرید کر محرم کو دے دے، تو ایسا گوشت محرم کے لیے حلال ہے۔ ◈ شافعیہ، مالک، احمد اور داؤد ظاہری اسی موقف کے قائل ہیں۔ [شرح النووي: 8/105]
➍ محرم کے لیے شکار کرنا، شکار کی طرف اشارہ کرنا یا شکار کی اطلاع دینا حرام ہے، نیز شکار کو بھڑکانا بھی ناجائز ہے۔
➎ محرم کے لیے ایسا شکار ممنوع ہے جو اس کی خاطر، اس کی اطلاع پر یا اس کی اعانت سے شکار کیا گیا ہو۔
➏ محرم کے لیے خشکی کے جانور کے انڈے ضائع کرنا، انہیں خریدنا اور بیچنا حرام ہے، اسی طرح کسی شکاری جانور کا دودھ دوہنا بھی ناجائز ہے۔ [فقه السنة: 1/599]
➐ محرم کے لیے سمندر کا ہر قسم کا شکار حلال ہے، خواہ وہ شکار اس نے خود کیا ہو، اس کی خاطر کیا ہو، اسے ہدیہ ملا ہو یا اس نے خریدا ہو۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿أُحِلَّ لَكُمۡ صَيۡدُ ٱلۡبَحۡرِ وَطَعَامُهُۥ مَتَٰعٗا لَّكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِ﴾ ”تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے کہ تمہارے لیے اور قافلے کے لیے سامانِ زندگی ہے۔“ [سورة المائدة: 96]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2644]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2644 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← زيد بن أرقم الأنصاري