صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1865. (124) باب ذكر الدليل على أن الوجع الذى وجده النبى صلى الله عليه وسلم فى إحرامه فاحتجم بسببه على ظهر القدم، وجده بظهره أو بوركه لا بقدمه
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس تکلیف کی بنا پر حالت احرام میں اپنے قدم مبارک پر سینگی لگوائی تھی، وہ تکلیف آپ کی کمر یا سرین میں تھی، قدم میں نہیں تھی
حدیث نمبر: 2660
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِظَهْرِهِ أَوْ بِوَرِكِهِ" ، لَمْ يَقُلْ لَنَا بُنْدَارٌ: أَوْ بِوَرِكِهِ، قِيلَ لَنَا: إِنَّهُ كَانَ فِي كِتَابِهِ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ بِهِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ وَجَعٍ وَجَدَهُ فِي رَأْسِهِ"، فَدَلَّ خَبَرُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ احْتَجَمَ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ، وَإِنَّمَا كَانَتْ لِلْوَثْءِ الَّذِي كَانَ بِظَهْرِهِ أَوْ بِوَرِكِهِ، لأَنَّ فِي خَبَرِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ إِحْدَى الْحِجَامَتَيْنِ كَانَ مِنْ وَجَعٍ وَجَدَهُ فِي رَأْسِهِ، وَفِي خَبَرِ جَابِرٍ أَنَّ إِحْدَاهُمَا كَانَ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِظَهْرِهِ أَوْ بِوَرِكِهِ، وَقَدْ رَوَى ابْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ،".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کمر یا سرین میں درد کی وجہ سے حالت احرام میں سینگی لگوائی تھی۔ جناب بندار کی روایت میں ”سرین“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ لفظ ان کی کتاب میں موجود تھا مگر انہوں نے بیان نہیں کیا۔ امام ابوبکر رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس اور ابن بُحینه رضی اللہ عنہم کی روایات میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سرین مبارک میں ایک تکلیف کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔ جبکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے کمر یا کو لہے کی تکلیف کی وجہ سے قدم کے اوپر سینگی لگوائی تھی۔ کیونکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ نے اپنے سر مبارک میں تکلیف کی وجہ سے سر میں سینگی لگوائی تھی۔ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے اپنی کمر یا کو لہے میں درد کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2660]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري