صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
211. (209) باب النفخ فى اليدين بعد ضربهما على التراب للتيمم
تیمم کے لیے دونوں ہاتھون کو مٹی پر مارنے کے بعد ان میں پھونک مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 268
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: لا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا، فَلَمْ نَجْدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ"،" وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا، وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ"
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو اس نے کہا کہ میں جنبی ہوگیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا (تو میں کیا کروں؟) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نےفرمایا کہ تم نماز نہ پڑھو۔ (بلکہ پانی ملنے تک انتظار کرو) تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے امیرالمومنین، کیا آپ کویاد نہیں جب میں اور آپ ایک سریہ میں تھے تو ہم جنبی ہو گئے تھے اور ہمیں پانی نہیں ملا تھا۔ تو آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی جبکہ میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہوکر نماز پڑھ لی تھی۔ پھر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”تمہیں صرف اتنا ہی کافی تھا۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا پھر اس میں پُھونک ماری اور اُس کے ساتھ اپنے چہرے اور دونوں ہاتوں کا مسح کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب التيمم عند الإعواز من الماء فى السفر،/حدیث: 268]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 338، 339، 340، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 368، وابن الجارود فى "المنتقى"، 139، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 266، 267، 268، 269، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1267، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 311، وأبو داود فى (سننه) برقم: 322، والترمذي فى (جامعه) برقم: 144، والدارمي فى (مسنده) برقم: 772، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 569، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1022، والدارقطني فى (سننه) برقم: 696، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18605، والحميدي فى (مسنده) برقم: 144»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 268 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 268
فوائد:
➊ یہ حدیث بھی دلیل ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کا تیمم مشروع ہے اور اس سے اضافہ ثابت نہیں۔
➋ تیمم کے لیے زمین پر ہاتھ مارنے کے بعد ہاتھوں میں پھونکنا مشروع ومسنون ہے تاکہ ہاتھوں پر لگی کسی سخت چیز سے چہرہ زخمی نہ ہو یا ہاتھوں پر لگی گرد سے چہرہ گرد آلود نہ ہو جائے۔
➊ یہ حدیث بھی دلیل ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کا تیمم مشروع ہے اور اس سے اضافہ ثابت نہیں۔
➋ تیمم کے لیے زمین پر ہاتھ مارنے کے بعد ہاتھوں میں پھونکنا مشروع ومسنون ہے تاکہ ہاتھوں پر لگی کسی سخت چیز سے چہرہ زخمی نہ ہو یا ہاتھوں پر لگی گرد سے چہرہ گرد آلود نہ ہو جائے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 268]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 268 in Urdu
عبد الرحمن بن أبزى الخزاعي ← عمار بن ياسر العنسي