صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1885. (144) باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما أباح للمحرم لبس الخفين اللذين هما أسفل من الكعبين،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو وہ موزے پہننے کی اجازت دی ہے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں ایسے موزے پہننے کی اجازت نہیں دی جو پنڈلیوں تک ہوں۔
حدیث نمبر: Q2684
لَا أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُ لُبْسَ الْخُفَّيْنِ اللَّذَيْنِ لَهَا سَاقَانِ، وَإِنَّ شَقَّ أَسْفَلَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْخُفَّيْنِ شَقًّا، وَتَرَكَ السَّاقَيْنِ فَلَمْ يُبَانَا مِمَّا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ عَلَى مَا تَوَهَّمَهُ بَعْضُ النَّاسِ
اور اگر ٹخنوں سے اوپر موزوں کو کاٹ لے اور پنڈلیوں والا حصّہ باقی رہے، ٹخنوں سے نچلے حصّے سے وہ الگ نہ ہو تو بھی انہیں پہننا جائز نہیں۔ بعض لوگوں کا اسے جائز قرار دینا درست نہیں [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2684]
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 2684
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا؟ فَقَالَ:" لا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلا السَّرَاوِيلاتِ، وَلا الْبَرَانِسَ، وَلا الْعَمَائِمَ، وَلا الْقَلانِسَ، وَلا الْخِفَافَ إِلا أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلانِ فَلْيَلْبَسْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ" ، وَفِي خَبَرِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ الَّذِي أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ، فَلْيَلْبَسْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَهَكَذَا قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا يَعْنِي الْخُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ"، ثَنَاهُ أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , أنا أَيُّوبُ ، وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ فَلْيَقْطَعْهُمَا يَجْعَلُهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، ثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَقَدْ خَرَّجْتَ طُرُقَ هَذَا اللَّفْظِ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ.
سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم احرام باندھیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قمیص، شلوار، ٹوپی والے کوٹ، پگڑیاں، ٹوپیاں اور موزے نہ پہنو، البتہ اگر کسی شخص کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے اور اُنہیں ٹخنوں سے نیچے کرکے پہن لے۔ جناب ایوب سے حماد کی روایت میں بھی یہی الفاظ ہیں کہ انہیں ٹخنوں سے نیچے کرکے پہن لے۔ اسی طرح ابن علیہ رحمه الله نے ایوب کی سند ہی سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کرکے انہیں پہن لے۔“ امام صاحب نے ابن جریج کی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں ”تو وہ شخص موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے۔ میں نے اس حدیث کے طرق کتاب الکبیر میں بیان کردیے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2684]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔
الرواة الحديث:
محمد بن بكر البرساني ← ابن جريج المكي