صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1892. (151) بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ نَهَارًا، اقْتِدَاءً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْبَيْتُوتَةِ قُرْبَ مَكَّةَ إِذَا انْتَهَى الْمَرْءُ بِاللَّيْلِ إِلَى ذِي طُوًى لِيَكُونَ دُخُولُهُ مَكَّةَ نَهَارًا لَا لَيْلًا
جب آدمی رات کے وقت ذی طوی مقام پر پہنچے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرتے ہوئے مکّہ مکرّمہ کے قریب رات گزارنا اور دن کے وقت صبح مکّہ مکرّمہ میں داخل ہونا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2692
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى أَصْبَحَ، فَدَخَلَ مَكَّةَ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج کے موقع پر) ذی طوی مقام پررات گزاری حتّیٰ کہ صبح ہوئی اور تو آپ مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2692]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 484، 485، 487، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1188، ومالك فى (الموطأ) برقم: 489، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2614، 2616، 2692، 2694، 2695، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3908، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2658، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2044، والترمذي فى (جامعه) برقم: 854، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1968، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2941، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9083، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4746»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان عبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← عبيد الله بن عمر العدوي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2692 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2692
فوائد:
➊ محرم کا مکہ میں داخل ہوتے وقت غسل کرنا مسنون ہے اور یہ غسل مقام ذی طویٰ پر ہونا چاہیے یا اتنی مسافت کی دوری پر ہونا چاہیے جس کا راستہ مختلف ہو۔ شافعیہ کہتے ہیں: یہ غسل مسنون ہے اور اگر کوئی شخص غسل سے معذور ہو تو وہ تیمم کر لے۔
➋ مقام ذی طویٰ پر رات بسر کرنا مستحب فعل ہے جس کے راستے میں یہ منزل واقع ہو۔
➌ مکہ میں رات کی نسبت دن کے وقت داخل ہونا افضل ہے۔ [شرح النووي: 5/9-6]
➊ محرم کا مکہ میں داخل ہوتے وقت غسل کرنا مسنون ہے اور یہ غسل مقام ذی طویٰ پر ہونا چاہیے یا اتنی مسافت کی دوری پر ہونا چاہیے جس کا راستہ مختلف ہو۔ شافعیہ کہتے ہیں: یہ غسل مسنون ہے اور اگر کوئی شخص غسل سے معذور ہو تو وہ تیمم کر لے۔
➋ مقام ذی طویٰ پر رات بسر کرنا مستحب فعل ہے جس کے راستے میں یہ منزل واقع ہو۔
➌ مکہ میں رات کی نسبت دن کے وقت داخل ہونا افضل ہے۔ [شرح النووي: 5/9-6]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2692]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2692 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي