صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1904. (163) باب استلام الحجر الأسود عند ابتداء الطواف
طواف شروع کرتے وقت حجر اسود کا استلام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2710
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَعِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ يُونُسُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَقَالَ عِيسَى: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ أَوَّلُ مَا يَطُوفُ حِينَ يَقْدَمُ يَخِبُّ ثَلاثَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ"
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ مکّہ مکرّمہ پہنچے تو آپ نے طواف کی ابتداء میں حجر اسود کا استلام کیا۔ پھر سات میں سے تین چکّروں میں دلکی چال چلے (اور چار چکّر عام رفتار سے چلے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2710]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1603، 1604، 1616، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1227، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1341، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2710، 2743، 2762، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2731، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1805، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2950، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8946، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4708»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2710 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2710
فوائد:
➊ اب یہ احادیث دلیل ہیں کہ دوران طواف حجر اسود اور رکن یمانی کو چھو کر چومنا یا دائیں ہاتھ سے اشارہ کرنا مستحب ہے۔
➋ بیت اللہ کے کل چار ارکان ہیں۔
۱۔ رکن حجر اسود، ۲۔ رکن یمانی؛ ان دونوں کو یمانی ارکان کہا جاتا ہے اور دوسرے دو ارکان کو شامی ارکان کہا جاتا ہے۔
رکن اسود دو اعتبار سے دیگر ارکان سے ممتاز ہے:
۱۔ اس کی بنیاد ابراہیم علیہ السلام نے رکھی ہے۔
۲۔ اس میں حجر اسود ہے۔
ان دو فضائل کے لحاظ سے اسے دو چیزوں کے ساتھ خاص کر دیا گیا ہے کہ یا تو اس کا استلام کیا جائے گا یا اسے بوسہ دیا جائے گا۔
رکن یمانی کی بنیاد ابراہیم علیہ السلام کے دست مبارک کی رکھی ہوئی ہے، اس لحاظ سے یہ ایک فضیلت یعنی استلام کے ساتھ خاص ہے۔
باقی دو ارکان کا دوران طواف استلام مشروع نہیں، جبکہ دو ارکان یعنی رکن اسود اور رکن یمانی کے استلام کے استحباب پر امت کا اجماع ثابت ہے اور علماء کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ دوسرے دو شامی ارکان کا استلام مشروع نہیں۔
◈ [شرح النووي: 9/1]
➊ اب یہ احادیث دلیل ہیں کہ دوران طواف حجر اسود اور رکن یمانی کو چھو کر چومنا یا دائیں ہاتھ سے اشارہ کرنا مستحب ہے۔
➋ بیت اللہ کے کل چار ارکان ہیں۔
۱۔ رکن حجر اسود، ۲۔ رکن یمانی؛ ان دونوں کو یمانی ارکان کہا جاتا ہے اور دوسرے دو ارکان کو شامی ارکان کہا جاتا ہے۔
رکن اسود دو اعتبار سے دیگر ارکان سے ممتاز ہے:
۱۔ اس کی بنیاد ابراہیم علیہ السلام نے رکھی ہے۔
۲۔ اس میں حجر اسود ہے۔
ان دو فضائل کے لحاظ سے اسے دو چیزوں کے ساتھ خاص کر دیا گیا ہے کہ یا تو اس کا استلام کیا جائے گا یا اسے بوسہ دیا جائے گا۔
رکن یمانی کی بنیاد ابراہیم علیہ السلام کے دست مبارک کی رکھی ہوئی ہے، اس لحاظ سے یہ ایک فضیلت یعنی استلام کے ساتھ خاص ہے۔
باقی دو ارکان کا دوران طواف استلام مشروع نہیں، جبکہ دو ارکان یعنی رکن اسود اور رکن یمانی کے استلام کے استحباب پر امت کا اجماع ثابت ہے اور علماء کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ دوسرے دو شامی ارکان کا استلام مشروع نہیں۔
◈ [شرح النووي: 9/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2710]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2710 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي