صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1909. (168) باب التكبير عند استلام الحجر واستقباله عند افتتاح الطواف
طواف شروع کرتے وقت حجر اسود کی طرف منہ کرکے اس کا استلام کرتے وقت اللهُ أَكْبَرُ کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 2716
قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُرَيْحٍ الرَّازِيُّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُجَمِّعٍ الْكِنْدِيُّ ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي حَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ أَهَلَّ، فَقَالَ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكَ"، فَهَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى الْبَيْتِ اسْتَقْبَلَهُ الْحَجَرُ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْحَجَرَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلاثَةَ أَشْوَاطٍ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی حج یا عمرے میں ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس جب آپ کو لیکر سیدھی ہو جاتی تو آپ ان الفاظ میں تلبیہ پکارتے «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ والنِّعْمَة لَكَ والمُلْكُ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”اے اللہ، میں حاضر ہوں، میں تیری بندگی پر کاربند ہوں، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بیشک سب تعریفیں تیرے ہی لائق ہیں اور ہر نعمت تیری ہی عطا کی ہوئی ہے، اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف پہنچنے تک اسی طرح تلبیہ کہتے رہتے حتّیٰ کہ آپ حجر اسود کے سامنے آتے تو «اللهُ أَكْـبَر» کہہ کر حجراسود کی طرف مُنہ کرتے (اسے بوسہ دیتے یا استلام کرتے) پھر (طواف کے) تین چکّر اچھل اچھل کر لگاتے اور چار چکّر عام رفتار سے چل کر لگاتے، پھر دو رکعت ادا کرتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2716]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1540، 1549، 1554، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1184، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1192، وابن الجارود فى "المنتقى"، 476، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2621، 2622، 2656، 2716، 2888، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3799، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1657، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1747، والترمذي فى (جامعه) برقم: 825، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2918، 3047، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9067، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2449، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4543»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد موسى بن عقبة القرشي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة فقيه إمام في المغازي | |
👤←👥عمرو بن مجمع السكوني، أبو المنذر عمرو بن مجمع السكوني ← موسى بن عقبة القرشي | ضعيف الحديث | |
👤←👥أحمد بن أبي سريج النهشلي، أبو جعفر أحمد بن أبي سريج النهشلي ← عمرو بن مجمع السكوني | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2716 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2716
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت ”اللہ اکبر“ کہنا مسنون ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت ”اللہ اکبر“ کہنا مسنون ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2716]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2716 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي