صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1908. (167) باب استلام الحجر باليد، وتقبيل اليد إذا لم يمكن تقبيل الحجر ولا السجود عليه
اگر حجر اسود کو بوسہ دینا اور اس پر سجدہ کرنا ممکن نہ ہو تو حجر اسود کو ہاتھ سے چھو کر ہاتھ چوم لینا چاہیے
حدیث نمبر: 2715
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ بِيَدِهِ، وَقَبَّلَ يَدَهُ، وَقَالَ:" مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ" . حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
امام نافع رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ اُنہوں نے اپنے ہاتھ کے ساتھ حجراسود کو چھوا اور اپنے ہاتھ کو بوسہ دیا۔ اور فرمایا کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کام کرتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے اسے نہیں چھوڑا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2715]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سليمان بن حيان الجعفري ← عبيد الله بن عمر العدوي