صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1912. (171) باب ذكر العلة التى لها رمل النبى صلى الله عليه وسلم فى الابتداء
ابتداء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رمل کرنے کی علت کا بیان
حدیث نمبر: 2720
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا أَسَدٌ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ قُرَيْشًا، قَالَتْ: إِنَّ مُحَمَّدًا، وَأَصْحَابَهُ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَى يَثْرِبَ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَامِهِ الَّذِي قَدِمَ فِيهِ، قَالَ لأَصْحَابِهِ: " أَرْمِلُوا بِالْبَيْتِ ثَلاثًا لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَكُمْ"، فَلَمَّا رَمَلُوا، قَالَتْ قُرَيْشٌ: مَا وَهَنَتْهُمْ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش کے لوگ کہنے لگے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کے صحابہ کو یثرب کے بخار نے بالکل کمزور کردیا ہے۔ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معاہدے والے سال مکّہ مکرّمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ” بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے پہلے تین چکّروں میں اُچھل اُچھل کر چلو تاکہ مشرک تمہاری قوت و طاقت دیکھ لیں۔ “ لہذا جب صحابہ کرام نے رمل کیا تو قریشی کہنے لگے کہ انہیں بخار نے ذرا بھی کمزور نہیں کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2720]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة ثبت | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← سعيد بن جبير الأسدي | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← أيوب السختياني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥أسد بن موسى الأموي، أبو سعيد أسد بن موسى الأموي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة | |
👤←👥نصر بن مرزوق، أبو الفتح نصر بن مرزوق ← أسد بن موسى الأموي | مجهول الحال |
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي