صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1916. (175) بَابُ الْإِشَارَةِ إِلَى الرُّكْنِ عِنْدَ الِانْتِهَاءِ وَالْبَدْءِ إِذَا لَمْ يُمْكِنِ اسْتِلَامُهُ
جب حجر اسود کا استلام کرنا ممکن نہ ہو تو طواف کے ہر چکّر کی ابتداء اور انتہا پر حجر اسود کی طرف اشارہ کرنا بھی کافی ہے
حدیث نمبر: 2724
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ . ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ، فَكُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ" ، هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہوکر بیت اللہ شریف کا طواف کیا۔ آپ جب حجر اسود کے پاس آتے تو اس کی طرف اشارہ کرتے۔ یہ روایت جناب بندار کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2724]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1607، 1612، 1613، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1272، وابن الجارود فى "المنتقى"، 510، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2722، 2724، 2780، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3825، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 712، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1877، 1881، والترمذي فى (جامعه) برقم: 865، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1887، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2948، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9381، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1866»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2724 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2724
فوائد:
➊ سواری پر طواف کرنا جائز و مباح ہے۔
➋ اگر دوران طواف حجر اسود کو بوسہ دینا، ہاتھ لگانا، چھڑی سے چھونا محال ہو تو دوری سے حجر اسود کی طرف اشارہ کرنا کافی ہے۔
➊ سواری پر طواف کرنا جائز و مباح ہے۔
➋ اگر دوران طواف حجر اسود کو بوسہ دینا، ہاتھ لگانا، چھڑی سے چھونا محال ہو تو دوری سے حجر اسود کی طرف اشارہ کرنا کافی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2724]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2724 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي