صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1953. (212) باب ذكر بعض العلل التى لها سعى النبى صلى الله عليه وسلم بين الصفا والمروة،
ان وجوہات کا بیان جن کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تھی
حدیث نمبر: Q2777
وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ قَبْلُ أَنَّ اسْتِنَانَ السُّنَّةِ قَدْ تَكُونُ فِي الِابْتِدَاءِ لِعِلَّةٍ فَتَزُولُ الْعِلَّةُ وَتَبْقَى السُّنَّةُ إِلَى آخِرِ الْأَبَدِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَعَى بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَهُ، فَبَقِيَتْ هَذِهِ السُّنَّةُ إِلَى آخِرِ الْأَبَدِ
حدیث نمبر: 2777
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ الْمَخْزُومِيُّ , قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" إِنَّمَا سَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَهُ" ، وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: لِتَرَى قُرَيْشًا قُوَّتَهُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی اس لئے کی تھی تاکہ مشرکین آپ کی قوت و طاقت دیکھ لیں۔ جناب مخرومی کی روایت میں ہے، تاکہ قریش والے آپ کی قوت دیکھ لیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2777]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1602، 1649، 4256، 4257، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1264، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2707، 2719، 2720، 2777، 2779، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3811، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2945، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1885، والترمذي فى (جامعه) برقم: 863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2953، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1946»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2777 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2777
فوائد:
➊ اس حدیث میں یہ علت بیان ہوئی ہے کہ طواف میں اور صفا مروہ کی سعی میں تیز چلنے کا سبب یہ تھا کہ مشرکین کو یہ باور کرایا جائے کہ مسلمان قوی اور مضبوط ہیں۔
➋ اگرچہ اس عمل کا مقصد کفار و مشرکین پر مسلمانوں کی قوت کی دھاک بٹھانا تھا، لیکن یہ عمل حج کے لیے مستقل سنت قرار دے دیا گیا۔
➌ لہذا طواف کے لیے تین چکر اور صفا مروہ کی سعی کے دوران تیز چلنا مسنون و مستحب ہے۔
➊ اس حدیث میں یہ علت بیان ہوئی ہے کہ طواف میں اور صفا مروہ کی سعی میں تیز چلنے کا سبب یہ تھا کہ مشرکین کو یہ باور کرایا جائے کہ مسلمان قوی اور مضبوط ہیں۔
➋ اگرچہ اس عمل کا مقصد کفار و مشرکین پر مسلمانوں کی قوت کی دھاک بٹھانا تھا، لیکن یہ عمل حج کے لیے مستقل سنت قرار دے دیا گیا۔
➌ لہذا طواف کے لیے تین چکر اور صفا مروہ کی سعی کے دوران تیز چلنا مسنون و مستحب ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2777]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2777 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي