صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1963. (222) باب فضل الحج ماشيا من مكة، إن صح الخبر فإن فى القلب من عيسى بن سوادة هذا
مکّہ مکرّمہ سے پیدل حج کرنے کی فضیلت، بشرطیکہ یہ حدیث صحیح ہو کیونکہ عیسیٰ بن سواد کے بارے میں میرا دل مطمئن نہیں ہے
حدیث نمبر: 2791
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ: مَرِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَرَضًا شَدِيدًا فَدَعَى وَلَدَهُ فَجَمَعَهُمْ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ حَجَّ مِنْ مَكَّةَ مَاشِيًا حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَكَّةَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ سَبْعَمِائَةِ حَسَنَةٍ، كُلُّ حَسَنَةٍ مِثْلُ حَسَنَاتِ الْحَرَمِ، قِيلَ لَهُ: مَا حَسَنَاتُ الْحَرَمِ؟ قَالَ: بِكُلِّ حَسَنَةٍ مِائَةُ أَلْفِ أَلْفِ حَسَنَةٍ"
جناب زاذان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما شدید بیمار ہوگئے تو اُنہوں نے اپنے بیٹوں کو بلا کر جمع کیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس شخص نے مکّہ مکرّمہ سے پیدل چل کر حج ادا کیا حتّیٰ کہ وہ واپس مکّہ مکرّمہ آ گیا تو الله تعالی اُس کے ہر قدم پر سات سو نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ ہر نیکی حرم کی نیکیوں کی مثل ہوگی۔ اُن سے پوچھا گیا، حرم کی نیکیوں سے کیا مراد ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ہر نیکی دس کروڑ نیکیوں کے برابر ہوگی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2791]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2791، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1698، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8737، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 12522»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2791 in Urdu
زاذان الكندي ← عبد الله بن العباس القرشي