الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1962. (221) باب مقام القارن والمفرد بالحج والإحرام إلى يوم النحر
حج قران اور حج مفرد کرنے والے یومِ النحر تک حالت احرام ہی میں رہیں گے
حدیث نمبر: 2790
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ الْعَبْدِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ عَلَى أَنْوَاعٍ ثَلاثَةٍ: فَمِنَّا مَا أَحْرَمَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ مُفْرِدًا، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ، فَمَنْ كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، فَلا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ قمِمَّا حُرِّمَ عَلَيْهِ حَتَّى يَقْضِيَ مَنَاسِكَ الْحَجِّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَدْ قَضَى عُمْرَتَهُ حَتَّى يَسْتَقْبِلَ حَجًّا"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں روانہ ہوئے تو ہم نے تین قسم کے احرام باندھے تھے۔ ہم میں سے کچھ لوگوں نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا تھا۔ ہم میں سے کچھ افراد نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور کچھ نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا تو جس شخص نے حج اور عمرے کا احرام باندھا تھا تو وہ مناسک حج ادا کرنے تک کسی پابندی سے آزاد نہ ہو جو اس پر احرام کی وجہ سے لاگو ہوئی تھیں۔ اور جس نے عمرے کا احرام باندھا تھا تو وہ بیت اللہ شریف کا طواف کرنے اور صفا مروہ کی سعی کرنے کے بعد فارغ ہوگیا حتّیٰ کہ اس نے (8 ذوالحجہ کو) حج کا احرام باندھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2790]
تخریج الحدیث:
الرواة الحديث:
يحيى بن عبد الرحمن اللخمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق