صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1991. (250) باب استقبال القبلة عند الوقوف بعرفة.
میدانِ عرفات میں قبلہ رخ ہوکر کھڑے ہونا چاہیے
حدیث نمبر: 2826
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرٍ ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، وَقَالَ: " رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ، فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ إِلَى الصَّخَرَاتِ، وَجَعَلَ حَبَلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلا حِينَ غَابَ الْقُرْصُ"
جناب جعفر اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور میں نے کہا آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتایئے؟ اُنہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ قصواء اونٹنی پر سوار ہوکر عرفات تشریف لائے اور اپنی اونٹنی کا پیٹ (رخ) پہاڑی جبل رحمت کی چٹانوں کی طرف کردیا اور لوگوں کے چلنے کے ریتلے راستے کو اپنے سامنے رہنے دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رُخ ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام تک ثھہرے رہے یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا اور زردی کم ہوگئی اور سورج کی ٹکیہ پوری طرح ڈوب گئی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2826]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔
الرواة الحديث:
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري