🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1993. ‏(‏252‏)‏ بَابُ اسْتِحْبَابِ الْفِطْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ تَقَوِّيًا عَلَى الدُّعَاءِ‏.‏
عرفات کے دن روزہ نہ رکھنا مستحب ہے تاکہ قوت و طاقت کے ساتھ خوب دعائیں مانگی جا سکیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2829
وحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ بِذَلِكَ.
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ سے یہی روایت بیان کرتی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2829]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1989، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1124، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2829، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3607، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8474، والطبراني فى(الكبير) برقم: 41، 59»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ميمونة بنت الحارث الهلاليةصحابية
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← ميمونة بنت الحارث الهلالية
ثقة
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← كريب بن أبي مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥الربيع بن سليمان المرادي، أبو محمد
Newالربيع بن سليمان المرادي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2829 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2829
فوائد:
◈ شافعی، مالک، ابوحنیفہ رحمہم اللہ اور جمہور علماء کا موقف ہے کہ عرفہ میں حاجی کے لیے یومِ عرفہ کا روزہ چھوڑنا مستحب ہے۔
◈ ابن منذر رحمہ اللہ نے ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان بن عفان، ابن عمر رضی اللہ عنہم اور ثوری رحمہ اللہ سے بھی یہی قول نقل کیا ہے۔
◈ جمہور علماء نے یہ استدلال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے اخذ کیا ہے۔
نیز یہ عمل اس لیے بھی افضل ہے کہ وقوفِ عرفہ کے آداب اور مناسکِ حج کے اہم ارکان کی ادائیگی میں بھی عرفہ کا روزہ چھوڑنا حاجی کے لیے راحت و تسکین اور مشقت سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ [شرح النووي: 38/7]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2829]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2829 in Urdu