صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1993. (252) باب استحباب الفطر يوم عرفة بعرفات تقويا على الدعاء.
عرفات کے دن روزہ نہ رکھنا مستحب ہے تاکہ قوت و طاقت کے ساتھ خوب دعائیں مانگی جا سکیں
حدیث نمبر: 2828
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ،" أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَ أُمِّ الْفَضْلِ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلَتْ أُمُّ الْفَضْلِ بِقَدَحِ لَبَنٍ، وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَ هُوَ يَوْمَئِذٍ بِعَرَفَةَ" . حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، بِذَلِكَ.
سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عرفہ والے دن ان کے پاس کچھ صحابہ کرام کا اختلاف ہوگیا کہ کیا رسول اللہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا ہے یا نہیں؟ کچھ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ ہے اور کچھ کہنے لگے کہ آپ نے روزہ نہیں رکھا، پس سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا جبکہ آپ اپنی اونٹنی پر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پی لیا، آپ اس دن میدان عرفات میں تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2828]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
سالم بن أبي أمية القرشي ← عمير بن عبد الله الهلالي