صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1996. (255) باب فضل حفظ البصر والسمع واللسان يوم عرفة.
عرفات کے دن آنکھوں، کانوں اور زبان کی خصوصی حفاظت کرنا
حدیث نمبر: 2834
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ أَبُو حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا سُكَيْنٌ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَجَعَلَ الْفَتَى يُلاحِظُ النِّسَاءَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: يَصْرِفُ وَجْهَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: يَا ابْنَ أَخِي.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ عرفات والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے تو اس نوجوان نے عورتوں کو دیکھنا شروع کردیا۔ پھر اوپر والی روایت کی مثل بیان کیا صرف یہ فرق ہے۔ آپ نے اُس کا چہرہ دوسری طرف کردیا، لیکن ”اے میرے بھتیجے“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2834]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2833، 2834، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3099، 3413، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2857، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2441، والطبراني فى(الكبير) برقم: 12974، 741»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2834 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2834
فوائد:
➊ سواری کے پیچھے کسی دوسرے شخص کو سوار کرنا جائز ہے، بشرطیکہ سواری طاقتور و توانا ہو۔
➋ فتویٰ طلبی یا کسی شرعی ضرورت کے تحت اجنبی عورت کی آواز سننا جائز ہے۔
➌ ◈ اجنبی عورت کی طرف (قصدًا) دیکھنا حرام ہے۔ [شرح النووي: 9/98]
➊ سواری کے پیچھے کسی دوسرے شخص کو سوار کرنا جائز ہے، بشرطیکہ سواری طاقتور و توانا ہو۔
➋ فتویٰ طلبی یا کسی شرعی ضرورت کے تحت اجنبی عورت کی آواز سننا جائز ہے۔
➌ ◈ اجنبی عورت کی طرف (قصدًا) دیکھنا حرام ہے۔ [شرح النووي: 9/98]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2834]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2834 in Urdu
عبد العزيز بن قيس العبدي ← عبد الله بن العباس القرشي