صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2000. (259) باب تباهي الله أهل السماء بأهل عرفات.
اللہ تعالیٰ عرفات کے حاجیوں پر فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے
حدیث نمبر: 2840
قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرَوَى مَرْزُوقٌ هُوَ أَبُو بَكْرٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ إِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ، فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلائِكَةَ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا ضَاحِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، فَتَقُولُ لَهُ الْمَلائِكَةُ: أَيْ رَبِّ، فِيهِمْ فُلانٌ يَزْهُو، وَفُلانٌ وَفُلانٌ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَمَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرُ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ" . حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثنا مَرْزُوقُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُهْدَةِ مَرْزُوقٍ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عرفات کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر تشریف لاتا ہے اور عرفات کے حاجیوں کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”میرے بندوں کی طرف دیکھو، وہ میری بارگاہ میں کس قدر غبار آلودہ پراگنده حالت میں حاضر ہیں، ہر دور دراز علاقے سے حاضر ہوئے ہیں۔ میں تمہیں گواہ بناکر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں معاف کردیا ہے۔“ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار، ان میں فلاں متکبّر بھی ہے اور ان میں فلاں فلاں گناہ گار بھی ہیں، الله تعالیٰ فرمائے گا کہ ”میں نے ان سب کو بخش دیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہیں: ”عرفہ والے دن جس کثرت سے لوگوں کو جہنّم سے آزادی ملتی ہے وہ کسی اور دن میں نہیں ملتی۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں مرزوق (راوی) کی ذمہ داری سے بری ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2840]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2840، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3853، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2090، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1240، وأخرجه الطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2973»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← الفضل بن دكين الملائي | ثقة حافظ جليل | |
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن جابر بن عبد الله الأنصاري ← محمد بن يحيى الذهلي | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥مرزوق الباهلي، أبو بكر مرزوق الباهلي ← محمد بن مسلم القرشي | صدوق حسن الحديث |
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2840 in Urdu
محمد بن يحيى الذهلي ← الفضل بن دكين الملائي