صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
224. (222) باب نضح بول الغلام، ورشه قبل أن يطعم.
بچے کے کھانا کھانے (کی عمر) سے پہلے اس کے پیشاب پر پانی چھڑکنے اور چھینٹے مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 286
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ الأَسَدِيَّةِ ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ" . نا يُونُسُ مَرَّةً، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، وَاللَّيْثُ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَيُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُمْ، بِمِثْلِهِ سَوَاءً الإِسْنَادُ وَالْمَتْنُ
سیدہ اُم قیس بنتِ محصن اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بچّے کو لیکر، جو کھانا نہیں کھاتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے اپنی گود میں بٹھالیا، تو اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا۔ چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگواکر اُسے چھینٹے مارے اور اُسے دھویا نہیں۔ امام صاحب اپنے اُستاد یونس کی سند سے ابن شہاب سے بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے مذکورہ بالا روایت کی طرح سند اور متن بیان کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 286]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 223، 5692، 5693، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 287، وابن الجارود فى "المنتقى"، 155، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 285، 286، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1373، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 301، وأبو داود فى (سننه) برقم: 374، 3877، والترمذي فى (جامعه) برقم: 71، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 524، 3462، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4216، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27638، والحميدي فى (مسنده) برقم: 346»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 286 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 286
فوائد:
➊ نومولود کو گھٹی دینا مستحب فعل ہے۔
➋ چھوٹے بچوں کو اہل فضل کے پاس بطور تبرک لے جانا مستحب ہے۔
➌ چھوٹے بچوں سے حسن معاشرت، نرمی اور تواضع اختیار کرنا مندوب ہے۔
➍ شیر خوار لڑکے کے پیشاب کی طہارت کے لیے پانی چھڑکنا کافی ہے، نیز علماء کا شیر خوار بچے اور بچی کے پیشاب کی طہارت کی کیفیت کے متعلق اختلاف ہے اور اس بارے علماء کے تین مذاہب ہیں۔
● (الف) ... صحیح اور راجح موقف یہ ہے کہ بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارنا کافی ہے، لیکن بچی کے پیشاب پر پانی چھڑکنا ناکافی ہے بلکہ اسے دیگر نجاسات کی طرح دھونا واجب ہے۔ ◈ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، عطاء بن ابی رباح، حسن بصری، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ اور سلف کی ایک جماعت کا یہی قول ہے۔
● (ب) ◈ محمد بن سیرین اور ابن وہب، مالکیہ کا یہی مذہب ہے۔
● (ج) ... بچے اور بچی دونوں کے پیشاب پر چھینٹے مارنا ناکافی ہے، بلکہ دونوں کا پیشاب دھونا واجب ہے۔ ◈ ابوحنیفہ، مالک اور اصحاب الرائے کا یہی موقف ہے۔ [نووی: 3/194]
➎ بچے کے پیشاب کی طہارت کے لیے چھینٹے مارنا اس وقت تک کافی ہے، جب تک اس کی خوراک کا انحصار دودھ پر ہو اور جب اس کی خوراک عام غذا بن جائے تو یہ رخصت ختم ہو جاتی ہے۔
➏ بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارنے سے یہ استدلال کرنا کہ شیر خوار بچے کا پیشاب پاک ہے، باطل ہے، بلکہ بچے کا پیشاب نجس ہوتا ہے لیکن شیر خوارگی میں یہ نجاست خفیف ہوتی ہے اور چھینٹے مارنے سے اس کا ازالہ ہو جاتا ہے۔
➊ نومولود کو گھٹی دینا مستحب فعل ہے۔
➋ چھوٹے بچوں کو اہل فضل کے پاس بطور تبرک لے جانا مستحب ہے۔
➌ چھوٹے بچوں سے حسن معاشرت، نرمی اور تواضع اختیار کرنا مندوب ہے۔
➍ شیر خوار لڑکے کے پیشاب کی طہارت کے لیے پانی چھڑکنا کافی ہے، نیز علماء کا شیر خوار بچے اور بچی کے پیشاب کی طہارت کی کیفیت کے متعلق اختلاف ہے اور اس بارے علماء کے تین مذاہب ہیں۔
● (الف) ... صحیح اور راجح موقف یہ ہے کہ بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارنا کافی ہے، لیکن بچی کے پیشاب پر پانی چھڑکنا ناکافی ہے بلکہ اسے دیگر نجاسات کی طرح دھونا واجب ہے۔ ◈ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، عطاء بن ابی رباح، حسن بصری، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ اور سلف کی ایک جماعت کا یہی قول ہے۔
● (ب) ◈ محمد بن سیرین اور ابن وہب، مالکیہ کا یہی مذہب ہے۔
● (ج) ... بچے اور بچی دونوں کے پیشاب پر چھینٹے مارنا ناکافی ہے، بلکہ دونوں کا پیشاب دھونا واجب ہے۔ ◈ ابوحنیفہ، مالک اور اصحاب الرائے کا یہی موقف ہے۔ [نووی: 3/194]
➎ بچے کے پیشاب کی طہارت کے لیے چھینٹے مارنا اس وقت تک کافی ہے، جب تک اس کی خوراک کا انحصار دودھ پر ہو اور جب اس کی خوراک عام غذا بن جائے تو یہ رخصت ختم ہو جاتی ہے۔
➏ بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارنے سے یہ استدلال کرنا کہ شیر خوار بچے کا پیشاب پاک ہے، باطل ہے، بلکہ بچے کا پیشاب نجس ہوتا ہے لیکن شیر خوارگی میں یہ نجاست خفیف ہوتی ہے اور چھینٹے مارنے سے اس کا ازالہ ہو جاتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 286]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 286 in Urdu
يونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري