صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
225. (223) باب استحباب غسل المني من الثوب
کپڑے سے منی دھونا مستحب ہے
حدیث نمبر: 287
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنُ كُرَيْبٍ ، نا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهُ مَنِيُّ غَسَلَهُ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاةِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى بُقْعَةٍ مِنْ أَثَرِ الْغَسْلِ فِي ثَوْبِهِ" . هَذَا لَفْظُ الصَّنْعَانِيِّ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَغْسِلُ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَنِيِّ، فَيَخْرُجُ وَفِي ثَوْبِهِ أَثَرُ الْمَاءِ"، وَفِي حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کو جب منی لگ جاتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُسے دھو لیتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے جاتے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں دھونے سے پڑنے والے نشان کو دیکھ رہی ہوتی تھی۔ ”یہ صنعانی کی روایت کے الفاظ ہیں۔ امام ابن مبارک رحمہ اللہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”وہ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے منی (لگنے کی وجہ) سے دھویا کرتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اُنہیں پہن کر) باہرتشریف لے جاتے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں پانی کا اثر (دکھائی دیتا) تھا۔ یزید بن ہارون کی سند میں «عن عائشه» کی بجائے «اخبرتنی عائشه» کے الفاظ ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 287]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 229، 230، 231، 232، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 288، وابن الجارود فى "المنتقى"، 152، 153، 154، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 287، 288، 289، 290، 294،295، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1379، وأبو داود فى (سننه) برقم: 371، 372، والترمذي فى (جامعه) برقم: 116، 117، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 536، 537، 538، 539، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4230، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24698»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 287 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 287
فوائد:
➊ انسان کی منی کی طہارت کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔
چنانچہ مالک اور ابوحنیفہ رحمہما اللہ منی کے نجس ہونے کے قائل ہیں۔
البتہ ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: خشک منی کو کھرچنا کافی ہے اور مالک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ خشک و تر منی کو دھونا واجب ہے۔
لیث رحمہ اللہ کا قول ہے منی نجس ہے، لیکن اس سے نماز دوبارہ پڑھنا لازم نہیں۔
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر کپڑے پر زیادہ منی لگی ہو تو نماز دہرانا ضروری نہیں لیکن بدن پر معمولی منی لگی ہو تو نماز دوبارہ پڑھی جائے۔
لیکن اکثر علماء کا موقف ہے کہ منی پاک ہے۔
علی بن ابی طالب، سعد بن ابی وقاص، ابن عمر، عائشہ رضی اللہ عنہم، داود ظاہری، احمد، شافعی اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ اسی موقف کے قائل ہیں۔
منی کے نجس ہونے کے قائلین کی دلیل وہ روایات ہیں جن میں منی کو دھونے کا بیان ہے اور منی کی طہارت کے قائلین کی دلیل وہ روایات ہیں جن میں منی کو کھرچنے کا حکم ہے کیونکہ اگر منی نجس ہوتی تو اسے کھرچنا ناکافی ہوتا۔
جیسے حیض کے خون کو کھرچنا ناکافی ہے۔
نیز ان کے نزدیک منی کو دھونے والی روایات کو استحباب اور زیادہ صفائی پر محمول کیا جائے گا۔
نیز راجح قول یہ ہے کہ مرد و عورت کی منی پاک ہے۔ [شرح نووی: 197/3]
➋ ◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
منی کی طہارت کے قائلین کا قول راجح ہے کیونکہ اس صورت میں خبر و قیاس دونوں پر عمل ہوتا ہے، کیونکہ اگر منی نجس ہوتی تو قیاس کی رو سے اسے دھونا واجب ہوتا جیسے حیض کے خون کو دھونا واجب ہے۔
اور اسے کھرچنا ناکافی ہے۔ [نیل الاوطار: 66/1]
➊ انسان کی منی کی طہارت کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔
چنانچہ مالک اور ابوحنیفہ رحمہما اللہ منی کے نجس ہونے کے قائل ہیں۔
البتہ ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: خشک منی کو کھرچنا کافی ہے اور مالک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ خشک و تر منی کو دھونا واجب ہے۔
لیث رحمہ اللہ کا قول ہے منی نجس ہے، لیکن اس سے نماز دوبارہ پڑھنا لازم نہیں۔
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر کپڑے پر زیادہ منی لگی ہو تو نماز دہرانا ضروری نہیں لیکن بدن پر معمولی منی لگی ہو تو نماز دوبارہ پڑھی جائے۔
لیکن اکثر علماء کا موقف ہے کہ منی پاک ہے۔
علی بن ابی طالب، سعد بن ابی وقاص، ابن عمر، عائشہ رضی اللہ عنہم، داود ظاہری، احمد، شافعی اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ اسی موقف کے قائل ہیں۔
منی کے نجس ہونے کے قائلین کی دلیل وہ روایات ہیں جن میں منی کو دھونے کا بیان ہے اور منی کی طہارت کے قائلین کی دلیل وہ روایات ہیں جن میں منی کو کھرچنے کا حکم ہے کیونکہ اگر منی نجس ہوتی تو اسے کھرچنا ناکافی ہوتا۔
جیسے حیض کے خون کو کھرچنا ناکافی ہے۔
نیز ان کے نزدیک منی کو دھونے والی روایات کو استحباب اور زیادہ صفائی پر محمول کیا جائے گا۔
نیز راجح قول یہ ہے کہ مرد و عورت کی منی پاک ہے۔ [شرح نووی: 197/3]
➋ ◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
منی کی طہارت کے قائلین کا قول راجح ہے کیونکہ اس صورت میں خبر و قیاس دونوں پر عمل ہوتا ہے، کیونکہ اگر منی نجس ہوتی تو قیاس کی رو سے اسے دھونا واجب ہوتا جیسے حیض کے خون کو دھونا واجب ہے۔
اور اسے کھرچنا ناکافی ہے۔ [نیل الاوطار: 66/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 287]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 287 in Urdu
سليمان بن يسار الهلالي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق