صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2032. (291) بَابُ الزَّجْرِ عَنْ ضَرْبِ النَّاسِ وَطَرْدِهِمْ عِنْدَ رَمْيِ الْجِمَارِ
جمرات کو کنکریاں مارتے وقت لوگوں کو مارنا اوار دھکے دینا منع ہے
حدیث نمبر: 2878
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَيْمَنَ بْنَ نَابِلٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ قُدَامَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَتِهِ صَهْبَاءَ، لا ضَرْبَ وَلا طَرْدَ، وَلا إِلَيْكَ"
سیدنا قدامہ بن عبداللہ بن عمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم النحر (دس ذوالحجہ) کو (جمرات پر کنکریاں مارتے وقت) آپ کی سرخ و سفید صہباء اونٹنی پر سوار دیکھا۔ (آپ کے لئے) نہ کسی کو مارا گیا نہ دھکے دیئے گئے اور نہ ایک طرف ہوجاؤ، ایک طرف ہوجاؤ کی پکار ہوئی۔ “ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2878]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2878، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1718، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3061، والترمذي فى (جامعه) برقم: 903، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1942، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3035، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9480، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15648»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2878 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2878
فوائد:
➊ جمرات کی رمی کرتے وقت لوگوں کو مارنا اور دھکم پیل کرنا مکروہ ہے۔
بلکہ یہ عمل انتہائی سکینت و وقار سے انجام دینا افضل ہے۔
➊ جمرات کی رمی کرتے وقت لوگوں کو مارنا اور دھکم پیل کرنا مکروہ ہے۔
بلکہ یہ عمل انتہائی سکینت و وقار سے انجام دینا افضل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2878]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2878 in Urdu
أيمن بن نابل الحبشي ← قدامة بن عبد الله الكلابي