صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2031. (290) بَابُ إِبَاحَةِ رَمْيِ الْجِمَارِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا
دس ذوالحجہ کو سوار ہوکر کنکریاں مارنا جائز ہے
حدیث نمبر: 2877
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أنا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَقَالَ لَنَا: " خُذُوا مَنَاسِكَكُمْ، فَإِنِّي لا أَدْرِي لَعَلِّي لا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے دس ذوالحجہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حُکم دیا: ”مجھ سے اپنے حج کے احکام سیکھ لو کیونکہ مجھے معلوم نہیں، شاید کہ میں اپنے اس حج کے بعد حج نہ کرسکوں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2877]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2877 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2877
فوائد:
◈ یہ حدیث امام شافعی اور ان کے موافقین کے مذہب کی دلیل ہے کہ جو شخص منیٰ میں سواری پر پہنچے وہ جمرہ عقبہ کی رمی سوار ہو کر کرے۔
لیکن اگر وہ پیدل رمی کرے تو یہ عمل بھی جائز ہے۔
اور جو شخص منیٰ میں پیدل پہنچے اس کے لیے پیدل ہی رمی کرنا بہتر ہے۔ [شرح النووي: 45/9]
◈ یہ حدیث امام شافعی اور ان کے موافقین کے مذہب کی دلیل ہے کہ جو شخص منیٰ میں سواری پر پہنچے وہ جمرہ عقبہ کی رمی سوار ہو کر کرے۔
لیکن اگر وہ پیدل رمی کرے تو یہ عمل بھی جائز ہے۔
اور جو شخص منیٰ میں پیدل پہنچے اس کے لیے پیدل ہی رمی کرنا بہتر ہے۔ [شرح النووي: 45/9]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2877]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2877 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري