صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2034. (293) باب استقبال الجمرة عند رميها والوقوف عن يسار القبلة
جمرات پر کنکریاں مارتے وقت چہرہ جمرے کی طرف ہونا چاہیے اور بیت اللہ شریف کو بائیں طرف کرکے کھڑے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2880
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وحَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَمَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَّهُ رَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ، وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ:" هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ" ، لَمْ يَقُلِ الزَّعْفَرَانِيُّ أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَقَالَ: وَرَمَى عَبْدُ اللَّهِ الْجَمْرَةَ
جناب ابراہیم سے روایت ہے کہ جناب عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ اُنھوں نے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا تو اُنھوں نے جمرے کو سات کنکریاں ماریں کنکریاں مارتے وقت اُنھوں نے بیت الله شریف کو اپنی بائیں جانب اور منیٰ کو اپنی دائیں جانب کیا۔ اور کہا یہ وہ جگہ ہے جہاں سے اُس ہستی نے کنکریاں ماری تھیں جس پر سورة البقره نازل ہوئی ہے۔ جناب زعفرانی کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ اُنھوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا۔ اور یہ الفاظ بیان کیے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے رمی کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2880]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1675، 1683، 1747، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1283، وابن الجارود فى "المنتقى"، 522، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2806، 2879، 2880، 2886، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3870، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1702، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3046، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1974، والترمذي فى (جامعه) برقم: 901، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3030، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1918، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3618»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2880 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2880
فوائد:
◈ قاضی عیاض رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جمرہ عقبہ کو بطنِ وادی سے رمی کرنا مستحب ہے اور حاجی کے لیے بہتر ہے کہ وہ بطنِ وادی میں جمرہ کے نیچے اس کیفیت میں کھڑا ہو کہ مکہ اس کے بائیں اور منیٰ اس کے دائیں جانب ہو اور جمرہ عقبہ کی طرف رخ کرکے سات کنکریاں مارے۔
یہ مذہب راجح ہے اور جمہور علماء بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔ [شرح النووي: 42/9]
◈ قاضی عیاض رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جمرہ عقبہ کو بطنِ وادی سے رمی کرنا مستحب ہے اور حاجی کے لیے بہتر ہے کہ وہ بطنِ وادی میں جمرہ کے نیچے اس کیفیت میں کھڑا ہو کہ مکہ اس کے بائیں اور منیٰ اس کے دائیں جانب ہو اور جمرہ عقبہ کی طرف رخ کرکے سات کنکریاں مارے۔
یہ مذہب راجح ہے اور جمہور علماء بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔ [شرح النووي: 42/9]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2880]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2880 in Urdu
عبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود