🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2042. ‏(‏301‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي النَّحْرِ وَالذَّبْحِ أَيْنَ شَاءَ الْمَرْءُ مِنْ مِنًى‏.‏
حاجی منیٰ میں جہاں چاہے قربانی کرسکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2890
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، قَالَ: " وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ" وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِي أَنَّ الْحُكْمَ بِالنَّظَرِ وَالشَّبِيهِ وَاجِبٌ، لأَنَّ فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ دَلالَةٌ عَلَى أَنَّهُ أَبَاحَ الذَّبْحَ أَيْضًا إِنْ شَاءَ الذَّابِحُ مِنْ مِنًى، وَلَوْ كَانَ عَلَى خِلافِ مَذْهَبِنَا فِي الْحُكْمِ بِالنَّظِيرِ وَالشَّبِيهِ، وَكَانَ عَلَى مَا زَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا مِمَّنْ خَالَفَ الْمُطَّلِبِيَّ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، وَزَعَمَ أَنَّ الدَّلِيلَ الَّذِي لا يُحْتَمَلُ غَيْرُهُ أَنَّهُ إِذَا خَصَّ فِي إِبَاحَةِ شَيْءٍ بِعَيْنِهِ كَانَ الدَّلِيلُ الَّذِي لا يُحْتَمَلُ غَيْرُهُ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مَا كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ الشَّيْءَ بِعَيْنِهِ مَحْظُورٌ كَانَ فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ كُلَّهَا لَيْسَ بِمَذْبَحٍ وَاتِّفَاقِ الْجَمِيعِ مِنَ الْعُلَمَاءِ عَلَى أَنَّ جَمِيعَ مِنًى مَذْبَحٌ، كَمَا خَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا مَنْحَرٌ دَالٌ عَلَى صِحَّةِ مَذْهَبِنَا، وَبُطْلانِ مَذْهَبِ مُخَالِفِينَا إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَتَّفِقَ الْجَمِيعُ مِنَ الْعُلَمَاءِ عَلَى خِلافِ دَلِيلِ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَجُوزُ غَيْرُهُ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں قربانی کا جانور ذبح کیا اور فرمایا: منیٰ کا سارا علاقہ اونٹ کی قربان گاہ ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حدیث کے یہ الفاظ منیٰ کا سارا علاقہ قربان گاہ ہے۔ یہ مسئلہ اس قسم کا ہے جسے میں اپنی کتب میں بیان کر چکا ہوں کہ ایک جیسے، ملتے جلتے مسائل میں ایک ہی حُکم لگانا واجب ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ کہ پورا منیٰ اونٹ کی قربان گاہ ہے اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے سارے منیٰ میں گائے، بکری وغیرہ ذبح کرنے کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ اگر معاملہ ہمارے مخالفین کے موقف کے مطابق ہوتا کہ ایک جیسے مسائل میں ایک جیسا حُکم لگانا درست نہیں اور جیسا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے جناب مُطلبی کی مخالفت میں کہا ہے اس کا خیال ہے کہ جب کسی مخصوص چیز کو جائز قرار دیا جائے تو دیگر چیزیں ممنوع ہوںگی تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ پورامنیٰ اونٹ کی قربان گاہ ہے میں یہ دلیل ہوتی کہ پورا منیٰ دیگر جانوروں کا ذبح خانہ نہیں ہے۔ حالانکہ تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ منیٰ کا سارا علاقہ گائے بکری کے لئے ذبح خانہ ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ سارا منیٰ اونٹ کی قربان گاہ ہے۔ آپ کا یہ فرمان ہمارے موقف کے درست ہونے اور ہمارے مخالفین کے موقف کے غلط ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ تمام علمائے کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے خلاف متفق ہوجائیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2890]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد الباقر، أبو جعفر
Newمحمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥جعفر الصادق، أبو عبد الله
Newجعفر الصادق ← محمد الباقر
صدوق فقيه إمام
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← جعفر الصادق
ثقة
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← حفص بن غياث النخعي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2890 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2890
فوائد:
➊ جمرات کو کنکریاں مارنے کے بعد وہاں وقوف کرنا مسنون نہیں، بلکہ رمی سے فراغت کے بعد قربانی کو ذبح کرنے کے لیے منیٰ کا رخ کرنا مشروع ہے۔
➋ تمام منیٰ قربانی ذبح کرنے کی جگہ ہے، کسی مقام کو خاص کرنا لازم نہیں، بلکہ یہ حکم لوگوں کی سہولت اور مشقت سے بچنے کے لیے ہے۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ تمام منیٰ میں قربانی کرنا جائز ہے۔ لہذا کسی خاص قربان گاہ میں تکلف سے جانور قربان نہ کریں، بلکہ منیٰ میں اپنی منازل پر قربانی کرنا بھی جائز ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 213/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2890]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2890 in Urdu