صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2060. (319) باب الرخصة فى ذبح الجذعة من الضأن فى الهدي والضحايا بلفظ مجمل غير مفسر.
بھیڑ کا ایک سالہ بچہ قربان کیا جا سکتا ہے حج اور عید کی قربانی میں۔ اس سلسلے میں ایک مجمل غیر مفسر روایت کا بیان
حدیث نمبر: 2916
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ، قَالَ عُقْبَةُ: فَصَارَتْ لِي جَذَعَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ، قَالَ:" ضَحِّ لَهَا" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ تَمَامَ أَبْوَابِ الضَّحَايَا فِي كِتَابِ الضَّحَايَا، وَإِنَّمَا خَرَّجْتُ هَذِهِ الأَخْبَارَ الَّتِي فِيهَا ذِكْرُ الضَّحَايَا فِي هَذَا الْكِتَابِ، لأَنَّ الْعُلَمَاءَ لَمْ يَخْتَلِفُوا أَنَّ كُلَّ مَا جَازَ فِي الضَّحِيَّةِ، فَهُوَ جَائِزٌ فِي الْهَدْيِ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے حصّے میں بھیٹر کا ایک سالہ بچّہ آیا۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میرے حصّے میں بھیٹر کا ایک سالہ بچہ آیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہی ذبح کرلو۔“ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے قربانی کے مسائل کتاب الضحایا میں بیان کر دیئے ہیں، میں نے یہاں قربانی کے یہ مسائل صرف اس لئے بیان کیے ہیں کیونکہ علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ ہر وہ جانور جو عید کی قربانی میں ذبح کرنا جائز ہے وہ حج کی قربانی میں بھی ذبح کرنا جائز ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2916]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2300، 2500، 5547، 5555، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1965، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2916، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5898، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4391، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1500، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3138، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19129، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17577»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2916 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2916
فوائد:
➊ قربانی اور ہدی کے لیے کھیرے بکرے کی قربانی جائز نہیں، بلکہ بکری، اونٹ اور گائے میں سے جانور کا دو دانتا ہونا شرط ہے اور اس حدیث میں بکری کے جزعہ کی قربانی کی رخصت صرف عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہی کو تھی۔
➋ ❀ چنانچہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ بکریاں دیں کہ میں انہیں بطور قربانی اپنے رفقاء میں تقسیم کروں، پھر اس تقسیم کے بعد بکری کا ایک کھیرا بچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی دو اور میں کسی اور کو (بکری کا کھیرا قربانی کرنے کی) رخصت نہیں دیتا۔“ [سنن البيهقي: 270/9]
➌ ◈ امام ترمذی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”اہل علم کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ قربانی میں بکری کا کھیرا نا کافی ہے اور قربانی میں (دو دانتا نہ ملنے کی صورت میں) صرف بھیڑ کا کھیرا کفایت کرتا ہے۔“ [جامع الترمذي، تحت حديث: 1508]
➊ قربانی اور ہدی کے لیے کھیرے بکرے کی قربانی جائز نہیں، بلکہ بکری، اونٹ اور گائے میں سے جانور کا دو دانتا ہونا شرط ہے اور اس حدیث میں بکری کے جزعہ کی قربانی کی رخصت صرف عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہی کو تھی۔
➋ ❀ چنانچہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ بکریاں دیں کہ میں انہیں بطور قربانی اپنے رفقاء میں تقسیم کروں، پھر اس تقسیم کے بعد بکری کا ایک کھیرا بچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی دو اور میں کسی اور کو (بکری کا کھیرا قربانی کرنے کی) رخصت نہیں دیتا۔“ [سنن البيهقي: 270/9]
➌ ◈ امام ترمذی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”اہل علم کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ قربانی میں بکری کا کھیرا نا کافی ہے اور قربانی میں (دو دانتا نہ ملنے کی صورت میں) صرف بھیڑ کا کھیرا کفایت کرتا ہے۔“ [جامع الترمذي، تحت حديث: 1508]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2916]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2916 in Urdu
بعجة بن عبد الله الجهني ← عقبة بن عامر الجهني