صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2059. (318) باب النهي عن ذبح ذات النقص فى العيون والآذان فى الهدي والضحايا نهي ندب وإرشاد؛
حج اور عید کی قربانی میں آنکھوں اور کانوں میں نقص والے جانور ذبح نہ کرنا، یہی ہے کہ ایسے جانور ذبح نہ کرنا بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 2915
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ عَلِيًّا عَنِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ: عَنْ سَبْعَةٍ، فَقَالَ: الْقَرْنُ، فَقَالَ: لا يَضُرُّكَ، قَالَ: الْعَرْجُ، قَالَ: إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسِكَ، قَالَ:" وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالأُذُنَ"
جناب حجیہ بن عدی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے بارے میں سوال کیا تو اُنھوں نے فرمایا کہ گائے کی قربانی میں سات افراد شریک ہو سکتے ہیں۔ اُس نے پوچھا کہ اگر سینگ (تھوڑا سا ٹوٹا ہوا ہو؟) انھوں نے فرمایا، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس نے پھر عرض کیا کہ انگڑے پن کا کیا حُکم ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب چل کر قربان گاہ پہنچ جائے تو کوئی حرج نہیں، فرمایا کہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حُکم دیا کہ ہم جانور کی آنکھیں اور کان اچھی طرح دیکھ لیں (کہ ان میں نقص نہ ہو)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2915]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 974، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2914، 2915، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5920، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1726، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4384، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2804، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1498، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3142، 3143، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2258، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17175، وأحمد فى (مسنده) برقم: 619»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2915 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2915
فوائد:
قربانی کے جانوروں میں درج ذیل عیوب صحتِ قربانی سے مانع ہیں اور جن جانوروں میں مذکورہ عیوب ہوں ان کی قربانی سے اجتناب لازم ہے۔
➊ کانا جانور، جس کا کانا پن ظاہر ہو، اسی طرح آنکھ میں کسی بھی قسم کا عیب درست نہیں۔
➋ بیمار جس کا مرض عیاں ہو۔
➌ لنگڑا، جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو۔
➍ ایسا لاغر جانور کہ جس کی ہڈیوں کا گودا ختم ہو چکا ہو۔
➎ ایسا جانور جس کا کان کٹا پھٹا ہو یا کان میں سوراخ وغیرہ ہو۔
➏ جس جانور کا نصف یا نصف سے زیادہ کان کٹا ہو یا نصف یا نصف سے زائد سینگ ٹوٹا ہو۔
قربانی کے جانوروں میں درج ذیل عیوب صحتِ قربانی سے مانع ہیں اور جن جانوروں میں مذکورہ عیوب ہوں ان کی قربانی سے اجتناب لازم ہے۔
➊ کانا جانور، جس کا کانا پن ظاہر ہو، اسی طرح آنکھ میں کسی بھی قسم کا عیب درست نہیں۔
➋ بیمار جس کا مرض عیاں ہو۔
➌ لنگڑا، جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو۔
➍ ایسا لاغر جانور کہ جس کی ہڈیوں کا گودا ختم ہو چکا ہو۔
➎ ایسا جانور جس کا کان کٹا پھٹا ہو یا کان میں سوراخ وغیرہ ہو۔
➏ جس جانور کا نصف یا نصف سے زیادہ کان کٹا ہو یا نصف یا نصف سے زائد سینگ ٹوٹا ہو۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2915]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2915 in Urdu
حجية بن عدي الكندي ← علي بن أبي طالب الهاشمي