🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
229. ‏(‏227‏)‏ بَابُ النَّهِيِ عَنِ الْبَوْلِ فِي الْمَسَاجِدِ وَتَقْذِيرِهَا
مساجد میں پیشاب کرنے اور انہیں گندہ اور آلودہ کرنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 293
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، وَنا بَهْزٌ يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ الْعَمِّيَّ ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الْمَسْجِدِ وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: مَهْ مَهْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ:" لا تُزْرِمُوهُ، دَعُوهُ"، ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا الْمَسْجِدَ لا يَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنَ الْقَذَرِ وَالْبَوْلِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا هُوَ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَذِكْرِ اللَّهِ، وَالصَّلاةِ"، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ:" قُمْ فَأْتِنَا بِدَلْوٍ مِنَ الْمَاءِ فَشُنَّهُ عَلَيْهِ" ، فَأَتَى بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّهُ عَلَيْهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اچانک ایک بدو آیا تو اُس نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا کہ رُکو، رُکو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے فرمایا کہ اس کا پیشاب نہ روکو، اُسے چھوڑ دو (جب وہ فارغ ہو گیا) پھر اُسے بلایا اور فرمایا: یہ مسجد گندگی اور پیشاب کے لیے مناسب نہیں ہے۔ یا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ توقرآن مجید کی تلاوت، اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے (بنائی گئی) ہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے ایک شخص سے کہا: اُٹھو، ہمارے پاس پانی کا ایک ڈول لاؤ اور اُسے اُس (پیشاب) پر بہادو۔ تو وہ پانی کا ایک ڈول لیکر آیا اور اُسے اُس پر بہا دیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 293]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 219، 221، 6025، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 284، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 293، 296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1401، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 53، والترمذي فى (جامعه) برقم: 148، والدارمي فى (مسنده) برقم: 767، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 528، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4208، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12265»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة حجة
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار
Newعكرمة بن عمار العجلي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
صدوق يغلط
👤←👥بهز بن أسد العمي، أبو الأسود
Newبهز بن أسد العمي ← عكرمة بن عمار العجلي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن هاشم العبدي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن هاشم العبدي ← بهز بن أسد العمي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 293 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 293
فوائد:
➊ انسان کا پیشاب نجس ہے اور اس پر اجماع منقول ہے۔ صغیر و کبیر کے پیشاب میں کوئی فرق نہیں۔ البتہ شیر خوار بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارنے سے طہارت حاصل ہو جاتی ہے۔
➋ مسجد کا احترام اور اسے نجاست و گندگی سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
➌ نجس زمین پر پانی بہانے سے وہ پاک ہو جاتی ہے اور طہارت کے لیے اسے کھودنا شرط نہیں ہے۔ شافعیہ اور جمہور علماء کا یہی مذہب ہے۔
➍ نجاست و غلاظت کو دھونے والا پانی پاک ہوتا ہے۔
➎ اگر جاہل آدمی شریعت کی مخالفت استخفاف و عناد سے نہ کرے تو غلطی میں اس سے نرم سلوک کیا جائے اور بعد میں اسے ضروری تعلیم سے آگاہ کیا جائے۔
➏ دو ضرر رساں چیزوں میں سے کم ضرر والی چیز کے احتمال کے باوجود زیادہ ضرر رساں چیز کا خاتمہ کیا جائے۔
❀ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی شخص کو پیشاب کرتے دیکھ کر فرمایا: اسے چھوڑ دو۔
◈ علماء بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان (اسے چھوڑ دو) میں دو مصلحتیں ہیں:
➐ اگر آپ اس کا پیشاب بند کرا دیتے تو وہ تکلیف سے دو چار ہوتا۔ جب کہ نجاست تو واقع ہو چکی تھی، لہٰذا پیشاب کی زیادتی کا احتمال اسے تکلیف سے دو چار کرنے سے بہتر تھا۔
➑ اس دیہاتی کے پیشاب سے مسجد کا معمولی حصہ نجس ہوا تھا۔ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اگر اسے پیشاب کے دوران روک دیتے تو اس وجہ سے اس کے کپڑے، بدن اور مسجد کی زیادہ جگہ نجس ہو جاتی۔
➒ مساجد کو غلاظت، کوڑا کرکٹ، تھوک، شور، جھگڑے، بیع و شراء اور ہر قسم کے عقود سے محفوظ رکھنا لازم امر ہے۔ [شرح النووي: 189/3، 190]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 293]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 293 in Urdu