صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
228. (226) باب ذكر وطء الأذى اليابس بالخف والنعل،
خشک گندگی کو موزے اور جوتے سے روندنے کا بیان،
حدیث نمبر: Q292
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ لَا يُوجِبُ غَسْلَ الْخُفِّ وَلَا النَّعْلِ، وَأَنَ تَطْهِيرَهُمَا يَكُونُ بِالْمَشْيِ عَلَى الْأَرْضِ الطَاهِرَةِ بَعْدَهَا
اور اس دلیل کا بیان کہ گندگی روندنے سے موزے اور جوتے کو دھونا واجب نہیں ہوتا اور ان دونوں کی صفائی اس (گندگی) کے بعد پاک زمین پر چلنے سے ہوجائے گی [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: Q292]
حدیث نمبر: 292
نا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَنْصُورٍ الأَنْطَاكِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمُ الأَذَى بِخُفِّهِ أَوْ نَعْلِهِ، فَطَهُورُهُمَا التُّرَابُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فِي قِصَّةِ النَّعْلَيْنِ مِنْ هَذَا الْبَابِ، قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي كِتَابِ الصَّلاةِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے موزے یا اپنے جُوتے سے گندگی روندے تو ان دونوں کی صفائی ستھرائی مٹّی ہے“۔ اما م ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس باب کے متعلق دو جُوتوں کے قصّے کے بارے میں ابونصر کی سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت، میں کتاب الصلا ۃ میں بیان کرچکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 292]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 292، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1403، 1404، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 594، 595، وأبو داود فى (سننه) برقم: 385، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4314، 4315، والبزار فى (مسنده) برقم: 8435، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 289»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 292 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 292
فوائد:
➊ ◈ امام بغوی رحمہ اللہ [شرح السنة] میں رقم طراز ہیں کہ اکثر علماء کا مذہب ظاہر حدیث کے موافق ہے کہ اگر موزے یا جوتے کے اکثر حصہ کو نجاست لگ گئی ہو، پھر اسے زمین پر رگڑنے سے اکثر نجاست ختم ہو جائے تو وہ جوتا پاک ہو جاتا ہے اور اس میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
شافعی کا قدیم قول یہی ہے لیکن ان کا جدید قول یہ ہے کہ اس صورت میں نجس جوتے وغیرہ کو پانی سے دھونا واجب ہے۔
➋ ◈ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ [حجة اللہ البالغہ] میں بیان کرتے ہیں کہ جوتے اور موزے کو ایسی نجاست لگ گئی ہے، جس کی ساخت ایسی ہے کہ وہ زمین پر رگڑنے سے پاک ہو جاتی ہے کیونکہ جوتے اور موزے کا تلا وغیرہ سخت ہوتا ہے، جس سے نجاست جوتے میں داخل نہیں ہو سکتی، نیز خشک و تر نجاست کی صفائی کے بارے میں یہی حکم ہے۔ [عون المعبود: 57/2]
➊ ◈ امام بغوی رحمہ اللہ [شرح السنة] میں رقم طراز ہیں کہ اکثر علماء کا مذہب ظاہر حدیث کے موافق ہے کہ اگر موزے یا جوتے کے اکثر حصہ کو نجاست لگ گئی ہو، پھر اسے زمین پر رگڑنے سے اکثر نجاست ختم ہو جائے تو وہ جوتا پاک ہو جاتا ہے اور اس میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
شافعی کا قدیم قول یہی ہے لیکن ان کا جدید قول یہ ہے کہ اس صورت میں نجس جوتے وغیرہ کو پانی سے دھونا واجب ہے۔
➋ ◈ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ [حجة اللہ البالغہ] میں بیان کرتے ہیں کہ جوتے اور موزے کو ایسی نجاست لگ گئی ہے، جس کی ساخت ایسی ہے کہ وہ زمین پر رگڑنے سے پاک ہو جاتی ہے کیونکہ جوتے اور موزے کا تلا وغیرہ سخت ہوتا ہے، جس سے نجاست جوتے میں داخل نہیں ہو سکتی، نیز خشک و تر نجاست کی صفائی کے بارے میں یہی حکم ہے۔ [عون المعبود: 57/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 292]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 292 in Urdu
كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي