🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2085. ‏(‏344‏)‏ باب استحباب الشرب من نبيذ السقاية إذا لم يكن النبيذ مسكرا‏.‏
نبیذ کی سبیل سے نبیذ پینا مستحب ہے جبکہ نبیذ نشہ آور نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2947
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى السِّقَايَةِ فَشَرِبَ نَبِيذًا، فَقَالَ: مَا بَالُ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ يَسْقُونَ النَّبِيذَ وَبَنُو عَمِّهِمْ يَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ، أَمِنْ بُخْلٍ أَمْ مِنْ حَاجَةٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَذَاكَ بَعْدَ مَا ذَهَبَ بَصَرُهُ: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ، فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَتْ بِنَا وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَاسْتَسْقَى، فَسَقَيْنَاهُ نَبِيذًا فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَ فَضْلَهُ أُسَامَةَ، فَقَالَ:" قَدْ أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ وَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا" ، فَنَحْنُ لا نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا الْخَبَرُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبِيحُ الشَّيْءَ بِذِكْرٍ مُجْمَلٍ وَيُبَيِّنُ فِي آيَةٍ أُخْرَى عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَا أَبَاحَهُ بِذِكْرٍ مُجْمَلٍ أَرَادَ بِهِ بَعْضَ ذَلِكَ الشَّيْءِ الَّذِي ذَكَرَهُ مُجْمَلا، لا جَمِيعَهُ، وَكَذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبِيحُ الشَّيْءَ بِذِكْرٍ مُجْمَلٍ، وَيُبَيِّنُهُ فِي وَقْتٍ تَالٍ أَنَّ مَا أَجْمَلَ ذِكْرَهُ أَرَادَ بِهِ بَعْضَ ذَلِكَ الشَّيْءِ لا جَمِيعَهُ كَقَوْلِهِ: كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، فَأَجْمَلَ فِي هَذِهِ الآيَةِ ذِكْرَ الْمَأْكُولِ وَالْمَشْرُوبِ وَبَيَّنَ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ أَنَّهُ إِنَّمَا أَبَاحَ بَعْضَ الْمَأْكُولِ، وَبَعْضَ الْمَشْرُوبِ لا جَمِيعَهُ، وَهَذَا بَابٌ طَوِيلٌ قَدْ بَيَّنْتُهُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا، فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا" أَبَاحَ الشُّرْبَ مِنْ نَبِيذِ السِّقَايَةِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مُسْكِرًا"، لأَنَّهُ أَعْلَمَ أَنَّ الْمُسْكِرَ حَرَامٌ
جناب بکر بن عبدالله رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی شخص سبیل پر آیا اور اُس نے نبیذ پی۔ تو وہ کہنے لگا کہ اس گھر والوں کو کیا ہوا ہے کہ یہ لوگوں کو نبیذ پلا رہے ہیں حالانکہ ان کے چچا زاد تو دودھ اور شہد پلا رہے ہیں کیا یہ بخل کی وجہ سے کررہے ہیں یا یہ خود ضرورت مند ہیں؟ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لاؤ،اُس وقت اُن کی بینائی ختم ہوچکی تھی اُس شخص کو آپ کے پاس لایا گیا تو فرمایا کہ ہم محتاج نہیں ہیں اور نہ بخیل ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے جبکہ آپ اونٹ پر سوار تھے اور آپ کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سوار تھے۔ آپ نے پانی مانگا تو ہم نے آپ کو نبیذ پلائی، آپ نے اسے پی لیا اور باقی نبیذ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو دے دی پھر فرمایا: تم نے بہت اچھا اور خوبصورت کام کیا ہے۔ اسی طرح کیا کرو لہٰذا ہم اس کام کو تبدیل کرنا نہیں چاہتے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت اسی قسم سے ہے جس کے بارے میں ہم اپنی کتب میں بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو مجمل طور پر جائز قرار دیتا ہے پھر دوسری آیت کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی وضاحت فرما دیتا ہے کہ اجمالی طور پر جائز قرار دی جانے والی چیز مکمّل طور پر جائز نہیں بلکہ اس کا کچھ حصّہ جائز ہے اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو اجمالاً جائز قرار دیتے ہیں پھر اس کے بعد وضاحت کر دیتے ہیں کہ اجمالاً جائز قرار پانے والی چیز سے آپ کی مراد اس چیز کا کچھ حصّّہ ہے، ساری چیز جائز نہیں ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے «‏‏‏‏وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ» ‏‏‏‏ [ سورة البقرة: 187 ] کھاؤ اور پیو حتّیٰ کہ صبح کی سفید دهاری سیاه دهاری سے واضح ہو جائے۔ اس آیت میں اجمالاً کھانے پینے کا ذکر ہے لیکن دوسرے مقام پر بیان فرما دیا کہ کچھ کھانے اور کچھ مشروبات حلال کیے ہیں تمام مشروبات اور مأکولات جائز نہیں۔ یہ ایک طویل باب ہے جسے ہم اپنی کتب میں کئی جگہ ذکر کرچکے ہیں۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیل کی وہ نبیذ پینا حلال کیا ہے جو نشہ آور نہ ہو کیونکہ آپ نے بتایا ہے کہ نشہ آور چیز حرام ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2947]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥بكر بن عبد الله المزني، أبو عبد الله، أبو المليح
Newبكر بن عبد الله المزني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← بكر بن عبد الله المزني
ثقة مدلس
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← حميد بن أبي حميد الطويل
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن شاهين الواسطي، أبو بشر
Newإسحاق بن شاهين الواسطي ← خالد بن عبد الله الطحان
ثقة
👤←👥بكر بن عبد الله المزني، أبو عبد الله، أبو المليح
Newبكر بن عبد الله المزني ← إسحاق بن شاهين الواسطي
ثقة ثبت
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← بكر بن عبد الله المزني
ثقة مدلس
👤←👥محمد بن إبراهيم السلمي، أبو عمرو
Newمحمد بن إبراهيم السلمي ← حميد بن أبي حميد الطويل
ثقة
👤←👥محمد بن أبان البلخي، أبو بكر
Newمحمد بن أبان البلخي ← محمد بن إبراهيم السلمي
ثقة حافظ
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2947 in Urdu