صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2088. (347) باب ذكر من قدم نسكا قبل نسك جاهلا
جو شخص لا علمی میں حج کے مناسک آگے پیچھے کرلے
حدیث نمبر: 2950
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، وَالصَّنْعَانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى، فَيَقُولُ:" لا حَرَجَ، لا حَرَجَ"، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ:" لا حَرَجَ"، وَقَالَ: رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ، قَالَ:" لا حَرَجَ" . حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، بِمِثْلِهِ، وَقَالَ:" اذْبَحْ وَلا حَرَجَ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قربانی والے دن منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ سوال پوچھتے تو آپ فرماتے: ”کوئی حرج نہیں (ترتیب میں غلطی پر) کوئی حرج نہیں۔“ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا تو عرض کیا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“ اور ایک شخص نے کہا کہ میں نے شام کے بعد کنکریاں ماری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے۔“ جناب یزید بن زریع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”اب ذبح کرلو اور کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2950]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 84، 1721، 1722، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1307، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2950، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3876، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3067، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1983، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3049، 3050، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9726، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2571، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1882»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2950 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2950
فوائد:
➊ یومِ نحر کو تین کام رمی، پھر قربانی، پھر حلق ہیں، انہیں بالترتیب کرنا افضل ہے۔
➋ لیکن اگر کوئی شخص بھول کر یا عمداً اس ترتیب کو توڑ دے تو کچھ مضائقہ نہیں۔
➊ یومِ نحر کو تین کام رمی، پھر قربانی، پھر حلق ہیں، انہیں بالترتیب کرنا افضل ہے۔
➋ لیکن اگر کوئی شخص بھول کر یا عمداً اس ترتیب کو توڑ دے تو کچھ مضائقہ نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2950]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2950 in Urdu
نصر بن علي الأزدي ← يزيد بن زريع العيشي