صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2094. (353) باب الرخصة فى البيتوتة لآل العباس بمكة أيام منى من أجل سقايتهم ليقوموا بإسقاء الناس منها.
آل عباس کو حاجیوں کو پانی پلانے کے لئے منیٰ کے ایام میں رات کو مکّہ مکرّمہ میں رہنے کی اجازت ہے
حدیث نمبر: 2957
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ابْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، اسْتَأْذَنَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی تھی جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ کی راتیں مکّہ مکرّمہ میں گزارنے کی اجازت مانگی تھی، کیونکہ وہ حاجیوں کو زمزم کا پانی پلاتے تھے تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2957]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1634، 1743، 1744، 1745، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1315، وابن الجارود فى "المنتقى"، 539، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2957، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3889، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1959، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1986، 1987، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3065، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9795، 9796، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4782»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2957 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2957
فوائد:
➊ ایامِ تشریق کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے کا حکم ہے، لیکن علما میں اس کے وجوب اور عدمِ وجوب میں اختلاف ہے اور امام شافعی کا صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہ عمل واجب ہے۔
➋ اہلِ سقایہ اس وجوب سے مستثنیٰ ہیں اور وہ منیٰ کے بجائے مکہ میں رات بسر کر سکتے ہیں تاکہ وہ مکہ میں جا کر زمزم پلانے کا بندوبست کر سکیں۔ شافعی کے نزدیک یہ استثنا آلِ عباس کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جو بھی شخص اس ذمہ داری پر مامور ہو وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔
➌ حاجی کو پانی پلانا آلِ عباس کا حق ہے کیونکہ دورِ جاہلیت میں وہ اسی ذمہ داری پر مامور تھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی انھیں اس پر برقرار رکھا۔ [شرح النووي: 63/9]
➊ ایامِ تشریق کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے کا حکم ہے، لیکن علما میں اس کے وجوب اور عدمِ وجوب میں اختلاف ہے اور امام شافعی کا صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہ عمل واجب ہے۔
➋ اہلِ سقایہ اس وجوب سے مستثنیٰ ہیں اور وہ منیٰ کے بجائے مکہ میں رات بسر کر سکتے ہیں تاکہ وہ مکہ میں جا کر زمزم پلانے کا بندوبست کر سکیں۔ شافعی کے نزدیک یہ استثنا آلِ عباس کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جو بھی شخص اس ذمہ داری پر مامور ہو وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔
➌ حاجی کو پانی پلانا آلِ عباس کا حق ہے کیونکہ دورِ جاہلیت میں وہ اسی ذمہ داری پر مامور تھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی انھیں اس پر برقرار رکھا۔ [شرح النووي: 63/9]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2957]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2957 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي