🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2100. ‏(‏359‏)‏ باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما صلى بها ركعتين؛ لأنه كان مسافرا غير مقيم،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعات اس لئے ادا کیں کیونکہ آپ مسافر تھے، مقیم نہیں تھے۔ کیونکہ آپ مدینہ منوّرہ کے رہائشی تھے۔
اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث کہ ابتدا میں جب نماز فرض ہوئی تو دو رکعات فرض ہوئی تھی۔ پھر حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا (اور وہ چار رکعات ہوگئیں جبکہ مسافر کی نماز دو رکعات پڑھنا باقی رہیں) یہ حدیث بھی صراحت کرتی ہے کہ مقیم شخص پرمنیٰ میں مکمّل نماز واجب ہے وہ قصر نماز نہیں پڑھ سکتا جبکہ وہ مقیم ہو اور مسافر نہ ہو۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے کتاب الصلاة میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت کا معنی بیان کردیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایات میں واضح دلیل موجود ہے کہ اہل مکّہ اور مکّہ مکرّمہ میں مقیم ہونے والے شخص پر واجب ہے کہ وہ منیٰ میں مکمّل نماز ادا کریں کیونکہ وہ اب مقیم ہوچکے ہیں، مسافر نہیں رہے اور مقیم پر چار رکعات نماز فرض ہے۔ اس لئے کسی غیر مسافر شخص، عدم جنگ کی وجہ سے خوفزدہ نہ ہونے والے شخص، اہل مکّہ اور مکّہ مکرّمہ میں باہر سے آ کر مقیم ہو جانے والے شخص کے لئے نماز قصر کرنا جائز ہیں جبکہ وہ منیٰ کی طرف جائیں اور اُن کی نیت واپس مکّہ مکرّمہ آنے کی ہو، اس طرح وہ مسافر نہیں ہوںگے لہٰذا اُن کے لئے منیٰ میں نماز قصر کرنا جائز نہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2965]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، تقدم برقم: 303۔»

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2965 in Urdu