صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2115. (374) باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما نزل بالأبطح ليكون أسمع لخروجه،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی ابطح میں صرف اس لئے اترے تھے تاکہ آپ کی روانگی آسان ہو اگرچہ آپ نے منیٰ ہی میں صحابہ کرام کو بتادیا تھا کہ آپ وادی ابطح میں اتریں گے
حدیث نمبر: 2988
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " نُزُولُ الْمُحَصَّبِ لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ، إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهَا: لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ تُرِيدُ لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ الَّتِي يَجِبُ عَلَى النَّاسِ الائْتِمَامُ بِفِعْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ كُلُّ مَا فَعَلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ كَانَ مِنْ فِعْلِ الْمُبَاحِ فَقَدْ يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ السُّنَّةِ أَيْ أَنَّ لِلنَّاسِ الاسْتِنَانَ بِهِ إِذْ هُوَ مُبَاحٌ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِمْ أَنْ يَفْعَلُوا ذَلِكَ الْفِعْلَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ وادی محصب میں قیام کرنا سنّت نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وادی میں صرف اس لئے قیام کیا تھا کہ یہ آپ کی روانگی کے لئے آسان جگہ تھی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ فرمان وادی محصب میں قیام کرنا سنّت نہیں ہے۔ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ ایسا فعل نہیں ہے کہ جس کی اقتداء کرنا لوگوں کے لئے واجب ہو۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام افعال اگرچہ وہ مباح ہی ہوں اُن پر سنّت کا لفظ تو بولا جاتا ہے۔ لیکن لوگ اس سنّت کی پیروی کرسکتے ہیں کیونکہ یہ مباح ہے لیکن ان پر یہ فعل واجب نہیں ہے۔ (کہ اس کام کو نہ کرنے والا گناہ گار ہوجائے یا اس پر کفّارہ واجب ہو جائے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2988]
تخریج الحدیث: انظر الحديث السابق
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق