صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2117. (376) بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ،
وادی محصب میں اترنا مستحب ہے،
حدیث نمبر: 2991
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، مِثْلَهُ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مذکورہ روایت کی طرح مروی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2991]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1310، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2990، 2991، 2993، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3895، والترمذي فى (جامعه) برقم: 921، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3069، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9839، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5728»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2991 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2991
فوائد:
➊ احادیثِ باب دلیل ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے واپسی کے وقت مقامِ حج المعروف وادی محصب میں نزول فرمایا اور خلفائے راشدین اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اس مقام پر نزول فرمایا کرتے تھے۔ البتہ عائشہ و ابن عباس رضی اللہ عنہما اس جگہ نزول نہیں کرتے تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ ایک اتفاقی منزل تھی، قصداً آپ نے اس جگہ کا انتخاب نہیں کیا تھا۔
چنانچہ شافعی، مالک اور جمہور علماء کہتے ہیں کہ مقامِ حج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی اقتدا میں یہاں نزول کرنا مستحب فعل ہے اور علماء کا اس مسئلے میں اجماع ہے کہ جو شخص وادی محصب میں قیام نہ کرے اس پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہوتا۔ نیز محصب میں مقامِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرنا اور یہاں تمام رات یا رات کا کچھ حصہ گزارنا مستحب فعل ہے۔ [شرح النووي: 59/9]
➋ مقامِ حج میں نزول کی حکمت اللہ تعالیٰ کا اس نعمت پر شکر ادا کرنا تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دشمنانِ اسلام پر غلبہ کی صورت میں عطا کی تھی۔
◈ ابن قیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہاں قیام کا مقصود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شعائرِ اسلام کا اظہار تھا کیونکہ اس جگہ کافروں نے شعارِ کفر کا اظہار کیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ کفر و شرک کی جگہوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعائرِ توحید کو اجاگر کرتے تھے۔ [فقه السنة: 665/1]
➌ مقامِ حج میں قیام کی دوسری حکمت یہ تھی کہ یہاں سے مکہ کو روانگی آسان تھی۔
➊ احادیثِ باب دلیل ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے واپسی کے وقت مقامِ حج المعروف وادی محصب میں نزول فرمایا اور خلفائے راشدین اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اس مقام پر نزول فرمایا کرتے تھے۔ البتہ عائشہ و ابن عباس رضی اللہ عنہما اس جگہ نزول نہیں کرتے تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ ایک اتفاقی منزل تھی، قصداً آپ نے اس جگہ کا انتخاب نہیں کیا تھا۔
چنانچہ شافعی، مالک اور جمہور علماء کہتے ہیں کہ مقامِ حج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی اقتدا میں یہاں نزول کرنا مستحب فعل ہے اور علماء کا اس مسئلے میں اجماع ہے کہ جو شخص وادی محصب میں قیام نہ کرے اس پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہوتا۔ نیز محصب میں مقامِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرنا اور یہاں تمام رات یا رات کا کچھ حصہ گزارنا مستحب فعل ہے۔ [شرح النووي: 59/9]
➋ مقامِ حج میں نزول کی حکمت اللہ تعالیٰ کا اس نعمت پر شکر ادا کرنا تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دشمنانِ اسلام پر غلبہ کی صورت میں عطا کی تھی۔
◈ ابن قیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہاں قیام کا مقصود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شعائرِ اسلام کا اظہار تھا کیونکہ اس جگہ کافروں نے شعارِ کفر کا اظہار کیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ کفر و شرک کی جگہوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعائرِ توحید کو اجاگر کرتے تھے۔ [فقه السنة: 665/1]
➌ مقامِ حج میں قیام کی دوسری حکمت یہ تھی کہ یہاں سے مکہ کو روانگی آسان تھی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2991]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2991 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي