صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2124. (383) باب استحباب دخول الكعبة والذكر والدعاء فيها.
کعبہ میں داخل ہونا اور وہاں اللہ کا ذکر کرنا اور دعا مانگنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 3003
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ يُنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ :" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا" ، قُلْتُ: نَوَاحِيهَا أَزْوَايَاهَا، قَالَ:" بَلْ فِي كُلِّ قِبْلَةٍ مِنَ الْبَيْتِ"
جناب ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے امام عطاء سے پوچھا، کیا آپ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلا شبہ ہمیں بیت اللہ شریف کا طواف کرنے کا حُکم دیا گیا ہے اور بیت اللہ شریف کے اندر داخل ہونے کا تمھیں حُکم نہیں دیا گیا؟ انھوں نے جواب دیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیت اللہ شریف میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن میں نے اُنھیں یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے مجھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو آپ نے اس کی تمام جوانب میں دعائیں مانگیں میں نے پوچھا کہ جوانب سے اس کے کونے مراد ہیں؟ اُنھوں نے فرمایا، بلکہ بیت اللہ شریف کے ہر قبلہ کی جانب دعائیں کیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3003]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
عبد الله بن العباس القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي