صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2134. (393) باب استحباب الصلاة عند باب الكعبة بعد الخروج منها
کعبہ شریف سے نکلنے کے بعد اس کے دروازے کے پاس نماز پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 3015
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ، فَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ يُنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ فِي قِبَلِ الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ:" هَذِهِ الْقِبْلَةُ"
جناب ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے امام عطا ء سے کہا کہ کیا آپ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بلاشبہ تمہیں طواف کرنے کا حُکم دیا گیا ہے اور تمہیں بیت اللہ شریف میں داخل ہونے کا حُکم نہیں دیا گیا؟ اُنھوں نے جواب دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیت اللہ شریف میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن میں نے اُنہیں فرماتے ہوئے سنا ہے۔ مجھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الله شریف میں داخل ہوئے، پھر جب آپ باہر تشریف لائے تو آپ نے بیت اللہ شریف کے سامنے در رکعات ادا کیں اور فرمایا: ”یہ قبلہ ہے“۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3015]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔
الرواة الحديث:
عبد الله بن العباس القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي