صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2157. (416) باب ذكر حج الصبيان قبل البلوغ على غير الوجوب،
بچّوں کا بالغ ہونے سے پہلے نفلی حج کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q3049
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ "، أَرَادَ الْقَلَمَ مِمَّا يَكُونُ إِثْمًا وَوِزْرًا عَلَى الْبَالِغِ إِذَا ارْتَكَبَهُ، لَا أَنَّ الْقَلَمَ مَرْفُوعٌ عَنْ كِتَابَةِ الْحَسَنَاتِ لِلصَّبِيِّ إِذَا عَمِلَهَا
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تین افراد سے قلم اُٹھایا لیا گیا ہے: اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ ان افراد پر وہ گناہ نہیں لکھے جائیںگے جو ایک بالغ شخص کے ارتکاب پر لکھے جاتے ہیں [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q3049]
حدیث نمبر: 3049
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُخْبِرُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَرَ مِنْ مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ اسْتَقْبَلَهُ رَكْبٌ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ:" مَنِ الْقَوْمُ؟" قَالَ: الْمُسْلِمُونَ، فَمَنْ أَنْتُمْ؟ فَقَالَ:" رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَفَزِعَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُمْ فَرَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا مِنْ مَخَفٍّ، فَأَخَذَتْ بِعَضَلِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ:" وَلَكِ أَجْرُهُ" ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ فَحَجَّ بِأَهْلِهِ أَجْمَعِينَ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، وَلَمْ يَقُلْ: فَفَزِعْتُ، وَقَالَ: فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: وَلَكِ أَجْرٌ، وَقَالَ فِي كُلِّهَا: عَنْ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ سے واپس روانہ ہوئے تو جب آپ روحاء مقام پر پہنچ تو آپ کی ملاقات ایک قافلے سے ہوئی، آپ نے اُنھیں سلام کیا اور پوچھا: ”تم کون لوگ ہو؟“ انھوں نے جواب دیا کہ ہم مسلمان ہیں۔ پھر اُنھوں نے عرض کیا کہ آپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول ہوں“ اُن میں سے ایک عورت گھبرا گئی اور اُس نے اپنے بچّے کو جھولے سے نکال کر بازو سے پکڑ کر اوپر اُٹھایا اور بولی کہ اے اللہ کے رسول، کیا اس بچّے کا حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اورتمھیں اس کا اجر ملے گا “ جناب ابراہیم بن عقبہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابن منکدر کو سنائی تو اُنھوں نے اپنے سب گھر والوں سمیت حج کیا۔ جناب سفیان کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ وہ عورت گھبراگئی اور وہ بولی، کیا اس کا حج ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (ہاں) اور تمھیں اس کا اجر ملے گا۔ “ یہ الفاظ بیان کیے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3049]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1336، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1596، وابن الجارود فى "المنتقى"، 451، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3049، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 144، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2644، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1736، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9805، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1923»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 3049 in Urdu
علي بن خشرم المروزي ← سفيان بن عيينة الهلالي