صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2163. (422) باب ذكر الدليل على صحة هذا المتن،
اس حدیث کے متن کے صحیح ہونے کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3060
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" ذَهَبْتُ أَطْلُبُ بَعِيرًا لِي بِعَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفَةَ مَعَ النَّاسِ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لِمَنَ الْحُمْسِ فَمَا شَأْنُهُ هَاهُنَا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقِفُ بِعَرَفَةَ سِنِيهِ الَّتِي كَانَ بِهَا"
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے ایک اونٹ کو تلاش کرنے کے لئے عرفات گیا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے ساتھ میدان عرفات میں ٹھہرے ہوئے دیکھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ الله کی قسم، بیشک آپ تو حمس (قریش) میں سے ہیں پھر آپ عرفات میں کیوں ٹھہرے ہوئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سال بھی عرفات میں وہیں کھڑے تھے جہاں آپ پہلے کھڑے ہوتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3060]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
محمد بن جبير القرشي ← جبير بن مطعم القرشي