صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
238. (5) باب الدليل على أن إقام الصلاة من الإيمان
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نماز قائم کرنا ایمان کا جزء ہے
حدیث نمبر: 307
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا أَبُو عَامِرٍ ، نا قُرَّةَ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ وَهُوَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ جَرَّةً لِي أَنْتَبِذُ فِيهَا، فَأَشْرَبُ مِنْهُ، فَإِذَا أَطَلْتُ الْجُلُوسَ مَعَ الْقَوْمِ خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ مَنْ حَلاوَتِهِ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ، غَيْرَ خَزَايَا وَلا نَدَامَى"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّا لا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلا فِي الأَشْهُرِ الْحُرُمِ، فَحَدِّثْنَا جُمَلا مِنَ الأَمْرِ إِذَا أَخَذْنَا عَمِلْنَا بِهِ، أَوْ إِذَا أَحَدُنَا عَمِلَ بِهِ، دَخَلَ بِهِ الْجَنَّةَ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ؟"، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغَانِمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّا , وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ
حضرت ابوجمرہ ضبعی نصر بن عمران رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میرے پاس ایک گھڑا ہے جس میں میں نبیذ بناتا ہوں۔ اور اس سے پیتا ہوں۔ پھر جب میں لوگوں کے پاس دیر تک بیٹھتا ہوں تو اُس کی حلاوت کی وجہ سے رسوائی اور بدنامی سے ڈرتا ہوں (کہ لوگ خیال کریں گے کہ یہ نشہ ہے) اُنہوں نے فرمایا کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وفد کو خوش آمدید، نہ ذلیل و خوار ہوئے اور نہ شرمندہ و نادم ہوئے۔“ (یعنی خوشی سے مسلمان ہو کر معزز ہوئے) تو اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، بیشک ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے مشرک (حائل) ہیں۔ اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف حرمت والے مہینوں ہی میں آسکتے ہیں۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دین کے جملہ احکام بیان فرمائیں کہ جب ہم انہیں حاصل کر کے ان کے مطابق عمل کر لیں (یا جب ہم میں سے کوئی شحص ان کے مطابق عمل کرلے) تو جنّت میں داخل ہو جائے اور ہم اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی ان کی دعوت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حُکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا حُکم دیتا ہوں۔ کیا تمہیں پتہ ہے کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟“ اُنہوں نے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی بخوبی جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لا ئق نہیں۔ اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا اور غنیمتوں میں سے پانچواں حصّہ ادا کرنا، اور میں تمہیں کدّو کے برتن، کُریدی ہوئی لکڑی کے برتن، سبزلاکھی مرتبان اور تارکول لگے برتن میں نبیذ بنانے سے منع کرتا ہوں۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 307]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 53، 87، 523، 1398، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 17، وابن الجارود فى "المنتقى"، 411، 931، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 307، 1879، 2245، 2246، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 157، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3819، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5046، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1599، 1599 م، 2611، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7988، وأحمد فى (مسنده) برقم: 187»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 307 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 307
فوائد:
➊ یہ حدیث واضح نص ہے کہ توحید کا اقرار، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت سے خمس ادا کرنا، صحتِ ایمان کی شرطیں ہیں اور ایمان کے بنیادی ارکان ہیں۔
جن پر عمل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
➋ دیگر ارکانِ ایمان کی طرح مالِ غنیمت سے پانچواں حصہ نکالنا مجاہدینِ اسلام پر فرض ہے۔
خواہ امیر المؤمنین نہ ہو جو لشکر کی قیادت کر رہا ہو۔
➌ مذکورہ مشکوں کا استعمال شروعِ اسلام میں حرام تھا، پھر یہ حرمت منسوخ قرار دی گئی، لہٰذا اب ان مشکوں کے استعمال کی اجازت ہے۔
❀ سیدنا بُریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ، فِي ظُرُوفِ الْأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءِ غَيْرَ أَنْ لَّا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا»
”میں تمہیں چمڑے کے برتنوں میں پینے سے منع کرتا تھا، سو (اب) تم ہر برتن میں پیو، البتہ نشہ آور مشروب مت استعمال کرو۔“
** [صحيح مسلم: 977/5202] **
➊ یہ حدیث واضح نص ہے کہ توحید کا اقرار، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت سے خمس ادا کرنا، صحتِ ایمان کی شرطیں ہیں اور ایمان کے بنیادی ارکان ہیں۔
جن پر عمل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
➋ دیگر ارکانِ ایمان کی طرح مالِ غنیمت سے پانچواں حصہ نکالنا مجاہدینِ اسلام پر فرض ہے۔
خواہ امیر المؤمنین نہ ہو جو لشکر کی قیادت کر رہا ہو۔
➌ مذکورہ مشکوں کا استعمال شروعِ اسلام میں حرام تھا، پھر یہ حرمت منسوخ قرار دی گئی، لہٰذا اب ان مشکوں کے استعمال کی اجازت ہے۔
❀ سیدنا بُریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ، فِي ظُرُوفِ الْأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءِ غَيْرَ أَنْ لَّا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا»
”میں تمہیں چمڑے کے برتنوں میں پینے سے منع کرتا تھا، سو (اب) تم ہر برتن میں پیو، البتہ نشہ آور مشروب مت استعمال کرو۔“
** [صحيح مسلم: 977/5202] **
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 307]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 307 in Urdu
نصر بن عمران الضبعي ← عبد الله بن العباس القرشي