صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
246. (13) باب ذكر مواقيت الصلوات الخمس.
نماز پنجگانہ کے اوقات کا بیان
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اوقات نماز کے متعلق روایت بیان کرتے ہیں۔ بندار نے ہمیں اس سے زیادہ روایت بیان نہیں کی۔ بندار کہتے ہیں کہ میں اسے ابوداؤد سے ذکر کیا تو اُنہوں نے کہا کہ اس روایت کے راوی پر نماز جنازہ پڑی جانی چائیے۔ بندار کہتے ہیں کہ تو میں نے اس روایت کو اپنی کتاب سے مٹا دیا۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوداؤد پر نماز جنازہ پڑھی جانی چاہیے کیونکہ اُنہوں نے غلطی کے ہے۔ اور بندار کویہ حدیث اپنی کتاب سے مٹانے کی وجہ سے دس کوڑے مارے جانے چاہیے۔ یہ حدیث صحیح ہے جیسا کہ ثوری نے بھی علقمہ سے روایت کیا ہے ابوداؤد نے غلطی کھائی ہے اور بندار نے اس کو تبدیل کر دیا۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے ثوری نے بھی علقمہ سے روایت کیا ہے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ حرمی بن عمارہ کی سند سے مکمّل حد یث بیان کر تے ہیں۔ اما م ابوبکر رحمہ اللہ فرما تے ہیں کہ یہ حد یث عراقیوں کے اس دعویٰ کی تردید کرتی ہے کہ حا کم کے پاس کوئی شخص یہ اقرار کرلے کہ فلاں شخص کے اس پر ایک سے دس درہم تک واجب ہیں تو اُس پر آٹھ درہم واجب ہوں گے۔ اس طرح اُنہوں نے اس محال بات کو طویل باب کی شکل دیدی ہے۔ اور اس غلط حُکم پر بیشمار فرعی مسائل کی بنیاد رکھی ہے۔ اُن کے اس قول سے یہ واجب ہوتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو دن اور دو راتیں پانچوں نمازیں اُن کے اوقات کے بغیر پڑھائیں۔ کیونکہ اُن کے قول کا لازم یہ ہے کہ نمازوں کے اوقات پہلے اور دوسرے وقت کے درمیان ہیں اور پہلا اور دوسرا وقت نماز کے وقت سے خارج ہے جیسا کے ان کا دعویٰ ہے کہ حا کم کے سا منے، ایک اور دس درہم، اقرا رکرنے والے کے اقرارسے خارج ہیں اور آٹھ درہم، ایک اور دس در ہم کے درمیان ہے۔ میں اس قسم کا طو یل مسئلہ املاء کروا چکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 324]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 613، وابن الجارود فى "المنتقى"، 169، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 323، 324، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1492، والترمذي فى (جامعه) برقم: 152، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 667، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1763، 1781، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1033، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23421»
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 324 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 324
فوائد:
ان احادیث میں فرض نمازوں کے اوقات کا بیان ہے اور ہر نماز کے اول و آخر دو وقت ہیں جن میں نماز پڑھنا مشروع ہے اور ان اوقات میں پڑھی جانے والی نماز ادا ہوتی ہے اور نماز کا وقت نکل جانے کی صورت میں وہ نماز قضا ہو گی، ادا نہیں ہو گی۔
چنانچہ نمازِ فجر کا اول وقت صبح صادق طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے اور آخری وقت طلوعِ آفتاب سے قبل تک ہے، ان اوقات میں نمازِ فجر پڑھنا مشروع ہے۔
البتہ اول وقت میں نماز پڑھنا افضل و مستحب اور آخری وقت میں نماز پڑھنا بہر صورت جائز ہے اور طلوعِ آفتاب کی صورت میں نمازِ فجر کی ادا کا وقت ختم ہو جاتا ہے، اس کے بعد نمازِ فجر ہو گی۔
نمازِ ظہر کا وقت زوالِ آفتاب کے بعد شروع ہوتا ہے اور نمازِ ظہر کی ادا کا وقت نمازِ عصر (راجح مذہب کے مطابق جب ہر چیز کا سایہ اس کا مثل ہو جائے) تک ہے، ان اوقات میں نمازِ ظہر ادا کرنا جائز ہے۔
نمازِ عصر کا وقت (نمازِ ظہر کے اختتام پر) یعنی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو جائے، شروع ہوتا ہے اور غروبِ آفتاب تک جاری رہتا ہے۔
شافعیہ کہتے ہیں، نمازِ عصر کے پانچ اوقات ہیں: ➊ فضیلت کا وقت ➋ مختار وقت ➌ بلا کراہت جواز کا وقت ➍ جواز مع کراہت کا وقت ➎ وقتِ عذر۔
چنانچہ نمازِ عصر کا اول وقت افضل وقت ہے، اور اول وقت سے لے کر ہر چیز کا سایہ دو مثل ہونے تک نمازِ عصر کا مختار وقت ہے، سورج کے زرد ہونے تک جواز کا وقت اور سورج کے زرد ہونے سے لے کر غروبِ آفتاب تک کا وقت جواز مع کراہت کا وقت ہے۔
اور بارش یا سفر کی وجہ سے ظہر و عصر کو یکجا کرنے کی صورت میں نمازِ ظہر کے ساتھ نمازِ عصر، ظہر کے وقت میں جمع کرنا نمازِ عصر کا وقتِ عذر ہے۔ [نووی: 109/5]
نمازِ مغرب کا وقت غروبِ آفتاب سے لے کر غروبِ شفق (سرخی غائب ہونے) تک ہے اور نمازِ عشا کا وقت غروبِ شفق سے لے کر نصف شب تک محیط ہے۔
ان احادیث میں فرض نمازوں کے اوقات کا بیان ہے اور ہر نماز کے اول و آخر دو وقت ہیں جن میں نماز پڑھنا مشروع ہے اور ان اوقات میں پڑھی جانے والی نماز ادا ہوتی ہے اور نماز کا وقت نکل جانے کی صورت میں وہ نماز قضا ہو گی، ادا نہیں ہو گی۔
چنانچہ نمازِ فجر کا اول وقت صبح صادق طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے اور آخری وقت طلوعِ آفتاب سے قبل تک ہے، ان اوقات میں نمازِ فجر پڑھنا مشروع ہے۔
البتہ اول وقت میں نماز پڑھنا افضل و مستحب اور آخری وقت میں نماز پڑھنا بہر صورت جائز ہے اور طلوعِ آفتاب کی صورت میں نمازِ فجر کی ادا کا وقت ختم ہو جاتا ہے، اس کے بعد نمازِ فجر ہو گی۔
نمازِ ظہر کا وقت زوالِ آفتاب کے بعد شروع ہوتا ہے اور نمازِ ظہر کی ادا کا وقت نمازِ عصر (راجح مذہب کے مطابق جب ہر چیز کا سایہ اس کا مثل ہو جائے) تک ہے، ان اوقات میں نمازِ ظہر ادا کرنا جائز ہے۔
نمازِ عصر کا وقت (نمازِ ظہر کے اختتام پر) یعنی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو جائے، شروع ہوتا ہے اور غروبِ آفتاب تک جاری رہتا ہے۔
شافعیہ کہتے ہیں، نمازِ عصر کے پانچ اوقات ہیں: ➊ فضیلت کا وقت ➋ مختار وقت ➌ بلا کراہت جواز کا وقت ➍ جواز مع کراہت کا وقت ➎ وقتِ عذر۔
چنانچہ نمازِ عصر کا اول وقت افضل وقت ہے، اور اول وقت سے لے کر ہر چیز کا سایہ دو مثل ہونے تک نمازِ عصر کا مختار وقت ہے، سورج کے زرد ہونے تک جواز کا وقت اور سورج کے زرد ہونے سے لے کر غروبِ آفتاب تک کا وقت جواز مع کراہت کا وقت ہے۔
اور بارش یا سفر کی وجہ سے ظہر و عصر کو یکجا کرنے کی صورت میں نمازِ ظہر کے ساتھ نمازِ عصر، ظہر کے وقت میں جمع کرنا نمازِ عصر کا وقتِ عذر ہے۔ [نووی: 109/5]
نمازِ مغرب کا وقت غروبِ آفتاب سے لے کر غروبِ شفق (سرخی غائب ہونے) تک ہے اور نمازِ عشا کا وقت غروبِ شفق سے لے کر نصف شب تک محیط ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 324]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 324 in Urdu