صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
249. (16) باب اختيار الصلاة فى أول وقتها، بذكر خبر لفظه لفظ عام مراده خاص.
اوّل وقت میں نماز ادا کرنا پسندیدہ ہے، اس سلسلے میں مذکورہ حدیث کا بیان جس کے الفاظ عام اور اس کی مراد خاص ہے
حدیث نمبر: 327
نا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، نا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الصَّلاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا"
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کونسا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز اوّل وقت میں (ادا کرنا افضل ہے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 327]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 527، 2782، 5970، 7534، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 85، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 327، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 679، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 609، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1593، والترمذي فى (جامعه) برقم: 173، 1898، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2302، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2076، والدارقطني فى (سننه) برقم: 967، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3967»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 327 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 327
فوائد:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اول وقت پر نماز پڑھنا افضل عمل ہے۔
لیکن یہ افضلیت تمام نمازوں میں ثابت نہیں، بلکہ بعض نمازوں، مثلاً: نمازِ عشاء اور سخت گرمی میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنا مستحب فعل ہے۔
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اول وقت پر نماز پڑھنا افضل عمل ہے۔
لیکن یہ افضلیت تمام نمازوں میں ثابت نہیں، بلکہ بعض نمازوں، مثلاً: نمازِ عشاء اور سخت گرمی میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنا مستحب فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 327]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 327 in Urdu
سعد بن إياس الشيباني ← عبد الله بن مسعود