صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
250. (17) باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما أراد بقوله: " الصلاة فى أول وقتها " بعض الصلاة دون جميعها، وبعض الأوقات دون جميع الأوقات،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک ”نماز اوّل وقت میں اداکرنا افضل ہے“ سے آپ کی مراد سب نمازوں کی بجائے کچھ نمازیں اور سب اوقات کی بجائے کچھ اوقات ہیں
حدیث نمبر: 330
نا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا الصَّلاةَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ گرمی کی سختی جہنّم کی بھاپ سے ہے، شدید گرمی میں نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 330]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي